کتاب: الرحیق المختوم - صفحہ 1121
گی۔ تمہاری زمین پر گھوڑوں کی یلغار ہوگی۔ اور تمہاری بادشاہت پر میری نبوت غالب آجائے گی۔ اس خط کو لے جانے کے لیے ایلچی کی حیثیت سے حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کا انتخاب عمل میں آیا۔ ان کا بیان ہے کہ میں روانہ ہوکر عمان پہنچا۔ اور عبد سے ملاقات کی۔ دونوں بھائیوں میں یہ زیادہ دور اندیش اور نرم خوتھا۔ میں نے کہا : میں تمہارے پاس اور تمہارے بھائی کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایلچی بن کر آیا ہوں۔ اس نے کہا : میرا بھائی عمر اور بادشاہت دونوں میں مجھ سے بڑا اور مجھ پر مقدم ہے۔ اس لیے میں تم کو اس کے پاس پہنچا دیتا ہوں کہ وہ تمہارا خط پڑھ لے۔ اس کے بعد اس نے کہا: اچھا ! تم دعوت کس بات کی دیتے ہو ؟ میں نے کہا : ہم ایک اللہ کی طرف بلاتے ہیں ، جو تنہا ہے ، جس کا کوئی شریک نہیں۔ اور ہم کہتے ہیں کہ اس کے علاوہ جس کی پوجا کی جاتی ہے اسے چھوڑدو اور یہ گواہی دوکہ محمد ؐ اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ عبد نے کہا : اے عمرو! تم اپنی قوم کے سردار کے صاحبزادے ہو ، بتاؤ تمہارے والد نے کیا کیا؟ کیونکہ ہمارے لیے اس کا طرز عمل لائق ِاتباع ہوگا۔ میں نے کہا: وہ تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے بغیر وفات پاگئے ، لیکن مجھے حسرت ہے کہ کاش! انہوں نے اسلام قبول کیا ہوتا اور آپ کی تصدیق کی ہوتی۔ میں خود بھی انہیں کی رائے پر تھا لیکن اللہ نے مجھے اسلام کی ہدایت دے دی۔ عبد نے کہا : تم نے کب ان کی پیروی کی ؟ میں نے کہا : ابھی جلد ہی۔ اس نے دریافت کیا : تم کس جگہ اسلام لائے ؟ میں نے کہا : نجاشی کے پاس اور بتلایا کہ نجاشی بھی مسلمان ہوچکا ہے۔ عبد نے کہا : اس کی قوم نے اس کی بادشاہت کا کیا کیا ؟ میں نے کہا : اسے برقرار رکھا ، اوراس کی پیروی کی۔ اس نے کہا : اسقفوں اور راہبوں نے بھی اس کی پیروی کی ؟ میں نے کہا : ہاں! عبد نے کہا : اے عمرو ! دیکھو کیا کہہ رہے ہو کیونکہ آدمی کی کوئی بھی خصلت جھوٹ سے زیادہ رسواکن نہیں۔