کتاب: الرحیق المختوم - صفحہ 1109
اللہ کا رسول (صلی اللہ علیہ وسلم)ہوں۔ اور میں تمہیں اور تمہارے لشکر کو اللہ عزوجل کی طرف بلاتا ہوں۔ اورمیں نے تبلیغ ونصیحت کردی۔ لہٰذا میری نصیحت قبول کرو۔ اور اس شخص پر سلام جو ہدایت کی پیروی کرے۔‘‘[1]
ڈاکٹر حمید اللہ صاحب نے بڑے یقینی انداز میں کہا ہے کہ یہی وہ خط ہے جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ کے بعد نجاشی کے پاس روانہ فرمایا تھا۔ جہاں تک اس خط کی استنادی حیثیت کا تعلق ہے تو دلائل پر نظر ڈالنے کے بعد اس کی صحت میں کوئی شبہ نہیں رہتا ، لیکن اس بات کی کوئی دلیل نہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ کے بعد یہی خط روانہ فرمایاتھا۔ بلکہ بیہقی نے جو خط ابن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت سے نقل کیا ہے اس کا انداز ان خطوط سے زیادہ ملتا جُلتا ہے جنہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ کے بعد عیسائی بادشاہوں اور اُمراء کے پاس روانہ فرمایا تھا کیونکہ جس طرح آپ نے ان خطوط میں آیت کریمہ ﴿ قُلْ يَاأَهْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ ﴾ (۳: ۶۴)درج فرمائی تھی ، اسی طرح بیہقی کے روایت کردہ خط میں بھی یہ آیت درج ہے۔ علاوہ ازیں اس خط میں صراحتاً اصحمہ کا نام بھی موجود ہے۔ جبکہ ڈاکٹر حمید اللہ صاحب کے نقل کردہ خط میں کسی کانام نہیں ہے۔ اس لیے میرا گمان غالب یہ ہے کہ ڈاکٹر صاحب کا نقل کردہ خط درحقیقت وہ خط ہے جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اصحمہ کی وفات کے بعد اس کے جانشین کے نام لکھا تھا اورغالباً یہی سبب ہے کہ اس میں کوئی نام درج نہیں۔
اس ترتیب کی میرے پاس کوئی دلیل نہیں ہے ، بلکہ اس کی بنیاد صرف وہ اندرونی شہادتیں ہیں جو ان خطوط کی عبارتوں سے حاصل ہوتی ہیں۔ البتہ ڈاکٹر حمید اللہ صاحب پر تعجب ہے کہ موصوف نے ادھر ابن ِ عباس رضی اللہ عنہ کی روایت سے بیہقی کے نقل کردہ خط کو پورے یقین کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ خط قرار دیا ہے جو آپ نے اصحمہ کی وفات کے بعد اس کے جانشین کے نام لکھا تھا۔ حالانکہ اس خط میں صراحت کے ساتھ اصحمہ کا نام موجود ہے۔ والعلم عند اللّٰہ۔ [2]
بہرحال جب عَمرو بن امیہ ضمری رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا خط نجاشی کے حوالے کیا تو نجاشی نے اسے لے کر آنکھ پر رکھا اور تخت سے زمین پر اتر آیا۔ اور حضرت جعفر بن ابی طالب کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا۔ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس بارے میں خط لکھا جو یہ ہے :
بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم
محمد رسول اللہ کی خدمت میں نجاشی اصحمہ کی طرف سے !!