کتاب: الابانہ عن اصول الدیانہ - صفحہ 192
کہا گیاہے ۔ ۱۲۔شریح بن نعمان از حشرج بن بنانہ از سعیدبن جہمان از سفینہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سے فرمایا: ((الخلافۃ فی ثلاثین سنۃ ،ثم ملک بعدذلک ،ثم قال لی سفینۃ:أمسک خلافۃ ابی بکر ،[ثم قال][وخلافۃ]عمروخلافۃ عثمان ثم [قال ]أمسک خلافۃ علی بن ابی طالب ،قال :[وجدتھا]ثلاثین سنۃ)) ’’ میری امت میں خلافت تیس سال ہوگی ، پھر اس کے بعدملوکیت ہوگی ،راوی کہتے ہیں مجھے سفینہ نے کہا:ابوبکر کی خلافت شمار کرو پھر عمرعثمان اور علی کی بھی کرو۔کہتے ہیں ۔میں نے شمار کی تو یہ (چارخلافتیں )تیس سال بنیں ‘‘ [1] یہ حدیث آئمہ اربعہ کی امامت پر دلالت کرتی ہے ۔ رہاوہ کچھ جو علی ،زبیراور عائشہ رضی اللہ عنھم کے درمیان ہواتو وہ اجتہاد وتاویل سے تھا۔ایام علی تھے اور یہ سب اہل اجتہاد میں سے تھے ۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے جنت کی شہادت دی تھی اور یہ شہادت اس بات پر دال ہے کہ وہ اپنے اپنے اجتہاد میں برحق ہے ۔[2] اسی طرح جو معاویہ ،علی رضی اللہ عنہما کے در میان ہواوہ بھی تاویل اجتھاد کی بدولت تھا۔تمام صحابہ مأمون اور غیرمتہم فی الدین ہیں ۔اللہ اور اس کے رسول نے ان سب کی مدح کی ہے اور ہمیں ان کی توقیر ،تعظیم ،موالات اور ہراس شخص سے اظھار براء ت کرکے تعبد کاکیا ہے جو ان کی تنقیص کر۔رضی اللہ عنھم اجمعین ۔ اور اقرارکے متعلق ہم بات کرچکے ہیں ۔والحمدللّٰہ اولاوآخرا۔
[1] سنن ابی داؤد ، (۴۶۳۹) سنن الترمذی (۲۲۲۹)صحیح ابن حبان (۱۵۳۴) نیزدیکھیے شرح عقیدہ طحاویہ (ص:۵۷۰۔۵۷۱) [2] دیکھیے شرح عقیدہ طحاویہ (ص:۵۴۵۔۵۵۲)