کتاب: الابانہ عن اصول الدیانہ - صفحہ 191
وعباس رضی اللہ عنہما کو بھی ہم نے دیکھاہے کہ انھوں آپ کے بیعت کی اور امام مان لیاتو یہ واجب ٹھہراکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد باجماع درست نہ ہو ۔اور ہر اجماع کے متعلق کوئی ایسی بات کہیں دے ۔اس سے اجماع کی حجت ساقط ہوئی ہے اللہ تعالیٰ نے ہمیں اجماع میں لوگو ں کے باطن سے تعبد کانہیں کیا ۔بلکہ ظاہر کا کیا ہے ۔اور جب بات اسی طرح ہے تو پھر امامت ابوبکر صدیق پر اجماع واتفاق ہوا۔
۹۔جب بعدعمرامامت ابوبکر ثابت ہوئی تو امامت فارغ بھی ہوئی کیونکہ آپ ہی سنا ان کونام فرد کیا تھا ۔اور آپ ہی ابوبکر صدیق کے بعد سب سے افضل تھے ۔[1]
۱۰۔... عمر کے بعد امامت عثمان بھی ثابت ہوئی ۔[2]کیونکہ آپ کی بیعت ان اصحاب شعوری سے ہوئی بعدجن کو عمرنے نام فردکیا تھا ۔ان اصحاب شعوری نے آپ کی امامت کو پسند کیا اور آپ کے فضل وعدل پر اجماع کیا ۔
۱۱۔....عثمان کے بعد امامت علی بھی ثابت ہوئی ۔[3]کیونکہ اہل حل وعقد صحابہ کے ساتھ منعقد ہوئی تھی اور کسی نے بھی اس کا اپنے لیے دعوی نہ کیا تھا آپ کے فضل وعدل بھی اجماع کہا گیا ہے ۔اور اس سے پہلے خلفاء کے دور میں اپنے لیے خلافت کا دعویٰ نہ کرنا اس لیے تھا کہ آپ کو علم تھا کہ یہ آپ کہ قیام کا وقت نہیں ۔پھر جب معا ملہ آپ کی طر ف آیا تو آپ نے اعلان واظہار کردیا اور کوتاہی نہ کی یہاں تک کہ سداد ورشاد سے اپنی خلافت گزاری جب کہ آپ سے پہلے خلفاء اور آئمہ عدل نے کتاب وسنت کی پیروی کرتے ہوئے ساد ورشاد پیرپلتے ہواپنی اپنی خلافت گزاری یہ چار آئمہ ہیں جن کے عدل وفضل پر اجماع
[1] دیکھیے شرح عقیدہ طحاویہ (ص: ۵۶۰۔ ۵۶۱)
[2] دیکھیے شرح عقیدہ طحاویہ (ص:۵۶۱۔ ۵۶۶)
[3] دیکھیے شرح عقیدہ طحاویہ (ص:۵۶۷۔ ۵۶۹)