کتاب: الابانہ عن اصول الدیانہ - صفحہ 190
ا س آیت میں انہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خروج سے منع کردیا ،بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خروج کو تبدیل کلام قراددیا۔اس سے یہ واجب ٹھہراکہ قتال کی طرف دعوت دینے والایہ داعی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی ہوگا ۔لوگوں نے کہاہے کہ (جن سے قتال کیا جائے گا )وہ اہل فارس ہیں اہل یمامہ بھی کہا گیا ہے ۔ اب اگر یہ اہل یمامہ ہیں تو ان سے ابوبکر صدیق نے قتال کیا اور ان سے قتا ل کی دعوت دی اور اگر یہ رومی ہیں تو ان سے ابوبکر قتال کیا اوراگر یہ اہل فارس ہیں تو ان سے ایام ابی بکر میں بھی قتال کیا گیااور بعد میں عمر رضی الہ عنہما نے بھی کیا۔ ۶۔اور جب امامت واجب ہوئی تو امامت ابی بکر کی ہوئی ۔کیونکہ ان کی طر ف امامت ابوبکر ہی نے مستقل کی تھی ۔پس قرآن پاک نے امامت ابوبکروعمررضی اللہ عنہما یہ دلالت کی اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ابوبکر امامت واجب ہوئی تو بھی واجب ہوا کہ آپ افضل المسلمین ہیں ۔ ۷۔اجماع کی مجھ سے امامت ابوبکر پر ایک دلیل ابوبکر صدیق کی امامت پر پر بھی دلالت کرتی ہے کہ تمام مسلمانوں نے ان کی امامت کو تسلیم کیا اور خلیفہ رسول اللہ کہا اور ہم نے دیکھا ہے کہ علی وعباس نے بھی بیعت کی اور ان کی امامت کا اقرار کیا۔ ۸۔رافضی کہتے ہیں علی مخصوص امام تھے راوندی عباس کو مخصوص امام قراردیتے ہیں سواامامت کے متعلق نہیں ہی اقوال ہوتے۔ (أ)۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے امامت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ پر نص بیان کی اور اور آپ ہی بعد الرسول امام ہیں ۔ (ب)۔آپ نے علی رضی اللہ عنہ کو مخصوص کیا ۔ (ج)۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے امام عباس ہیں ۔ ابوبکر صدیق والے قول پر اجماع مسلمین اور تمام مسلمانوں کی تو آپ ہی ہے پھر علی