کتاب: الابانہ عن اصول الدیانہ - صفحہ 189
’’جب تم غنایم حاصل کرنے کیلیے جانے لگوگے توجولوگ پیچھے رہ لگتے تھے کہیں گے کہ ہمیں بھی اپنے ساتھ جانے دو وہ اللہ کے حکم تو بدلنا چاہتے ہیں ‘‘
یعنی یہ فرمان ﴿ لَنْ تَخْرُجُوا مَعِيَ أَبَدًا ﴾ کو بدلناچاہتے ہیں پھر فرمایا:
﴿ كَذَلِكُمْ قَالَ اللَّهُ مِنْ قَبْلُ فَسَيَقُولُونَ بَلْ تَحْسُدُونَنَا بَلْ كَانُوا لَا يَفْقَهُونَ إِلَّا قَلِيلًا ﴾ (الفتح :۱۵)
’’اللہ پہلے ہی ایسی بات فرماچکا ہے ہی وہ کہیں گے (یہ بات نہیں )بلکہ تم ہماراحسد کرنے ہو بلکہ یہ لوگ حقیقت تو کم ہی سمجھتے ہیں ‘‘
اور فرمایا:
﴿ قُلْ لِلْمُخَلَّفِينَ مِنَ الْأَعْرَابِ سَتُدْعَوْنَ إِلَى قَوْمٍ أُولِي بَأْسٍ شَدِيدٍ تُقَاتِلُونَهُمْ أَوْ يُسْلِمُونَ فَإِنْ تُطِيعُوا يُؤْتِكُمُ اللَّهُ أَجْرًا حَسَنًا وَإِنْ تَتَوَلَّوْا ﴾ (الفتح :۱۶)
وہ آپ پیچھے رہ جانے والوں سے کہئے کہ عنقریب تمہیں ایک سخت جنگجو قوم سے (مقابلہ کے لیے )بلایا جائے گا تمہیں ان سے لڑناہو گا یا وہ مطیع ہو جائیں اگر تم حکم مانوگے تو اللہ تمہیں اچھااجرعطاکرے گا اور اگر تم پھر گئے یعنی اگر قتال کی طرف بلانے والے سے تم نے اعراض کیا
﴿ كَمَا تَوَلَّيْتُمْ مِنْ قَبْلُ يُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا أَلِيمًا ﴾ (الفتح :۱۶)
’’جیساکہ تم نے پہلے اعراض کیا تھا تو وہ تمھیں الم ناک عذاب دے گا ‘‘اور داعی غیر من تھے کہ اللہ نے فرمایاہے :
﴿ فَقُلْ لَنْ تَخْرُجُوا مَعِيَ أَبَدًا وَلَنْ تُقَاتِلُوا مَعِيَ عَدُوًّا ﴾ (التوبہ :۸۳)
’’۵۔پھر سورہ فتح میں فرمایا:
﴿ يُرِيدُونَ أَنْ يُبَدِّلُوا كَلَامَ اللَّهِ ﴾