کتاب: الابانہ عن اصول الدیانہ - صفحہ 185
بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عذاب قبر سے پناہ مانگتے ہوے سنا۔[1] ۳۔از انس بن مالک از نبی صلی اللہ علیہ وسلم مروی ہے کہ آپ نے فرمایا: ((لولاان لہ تدافنوا ۔سألت اللّٰہ عزوجل ان سمعکم من عذاب القبر مااسمعنی)) [2] ’’اگر یہ بات نہ ہو تی کہ تم مردے دفناناچھوڑدوگے تو میں اللہ سے دعاکرتاکہ عذاب قبرسے وہ کچھ تمہیں سنائے جو اس نے مجھے سنایا‘‘ ۴۔کفارکے قبروں میں عذاب دے جانے پر اللہ کا یہ قول بھی ایک دلیل ہے : ﴿ النَّارُ يُعْرَضُونَ عَلَيْهَا غُدُوًّا وَعَشِيًّا وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ أَدْخِلُوا آلَ فِرْعَوْنَ أَشَدَّ الْعَذَابِ ﴾ (الغافر:۴۶ۃ وہ صبح وشام آگ پر پیش کیے جاتے ہیں اور جس دن قیامت قائم ہوگی کہ شیدید ترین عذاب میں آل فرعون کو داخل کردو‘‘ اللہ نے قیامت کا عذاب دنیا میں آگ پر صبح وشام کی پیش کے بعد مقررفرمایاہے اور فرمایا: ﴿ سَنُعَذِّبُهُمْ مَرَّتَيْنِ ﴾ (التوبہ ؛۱۰۱ۃ ’’ہم ان کو دومرتبہ عذاب دیں گے ‘‘ یعنی ایک مرتبہ تلوار سے دوسری بار قبرمیں پرو،آخرت کے سخت عذابکی طر ف لوٹائیں جائیں گے ۔ اللہ نے یہ بھی خبر دی ہے کہ دنیامیں شہداء رزق دے جاتے ہیں اور اللہ کے فضل پر خوش ہوتے ہیں فرمایا: ﴿ وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ
[1] بخاری :۱۳۷۶،مسند احمد : ۶؍۴۶۳۔ ۳۶۵ [2] مسلم :۲۸۶۸، مسند احمد :۳؍ ۱۷۵، ۱۵۳، ۱۱۴، سنن النسائی :۴؍ ۱۰۲