کتاب: البیان شمارہ 8 - صفحہ 144
مولاناابو الکلام نے تفہیم اور تاثیر کو یکجان کر دیاہے۔ یہ کتابچہ دراصل ایک اصلاحی خطاب ہے جس میں روئے سخن مسلمانوں کے اس طبقے کی طرف ہے جس نے حُبّ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ایمانی تقاضے کو محض ایک رسمی شکل دے کر خود کو اُن ذمہ داریوں سے الگ کر رکھا ہے جو اس سے عہدہ برآہونے کے لئے پوری امت پر عائد ہوتی ہیں ۔ مولانا ایک مصلح کی طرح جو اپنی اصلاح طلب قوم کی نفسیات سے خوب آگاہ ہے تمام خرابیوں کی فصاحت سے نشاندہی کرنے کے باوجود کہیں توہین وتحقیر کا رویہ اختیار نہیں کیا ہر جگہ ایک سچے خیر خواہ کے دلوزی سے کام لیاہے۔ کون نہیں جانتا کہ میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مقدس دن کی یادمنانے والا ایک بڑا گروہ کیسی کیسی خرافات کا ارتکاب کرتاہے شاید ہی کوئی عالم ہوگا جس نے ان خرافات کو رد نہ کیا ہو یا ان کی اصلاح کی کوشش نہ کی ہو۔ مولانا آزاد نے بھی یہی کہا ہے لیکن بالکل مختلف انداز میں ، اکثر فقہاء اور محدثین کی طرح ایک لاتعلق ٹھنڈا اور تحکمانہ رویہ اختیار کرنے کی بجائے انہوں نے شفیق،فکرمند اور دیگرباپ کے لہجے میں کلام کیا ہے سخت سے سخت بات کہی مگر خود کو مخاطب سے دور نہیں کیا ڈانٹا بھی ہے تو چھاتی سے لگا کر ڈانٹا ہے۔ ( صفحہ:11۔12) یہ کتاب پاکستان اور ہندوستان میں کئی ناشروں نے شائع کی ہے مگر میرے پیش نظر مکتبہ جمال لاہور کا نسخہ ہے ،جو 2008ء میں شائع ہوا ہے ، صفحات کی تعداد 95ہے۔