کتاب: البیان شمارہ 8 - صفحہ 121
الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ سے کتنی محبت اور عقیدت تھی اور نثر نگاری میں مولانا ابو الکلام آزاد کس مرتبہ ومقام کے حامل تھے۔ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ : مولانا ابو الکلام آزاد فرماتے ہیں کہ ’’تیسری صدی کے اوائل میں جب فتنہ اعتزال وتعمق فی الدین اور بدعت مُضلّہ ، تکلم بالفلسفہ وانحراف ازاعتصام بالسنۃ نے سر اُٹھایا اور صرف ایک ہی نہیں بلکہ لگاتار تین عظیم الشان فرمانرواؤں یعنی مامون،معتصم اور واثق باللہ کی شمشیر استبداد وقہر حکومت نے اس فتنے کا ساتھ دیا حتی کہ بقول علی المدینی رحمہ اللہ کے فتنہ ارتداد ومنع زکوٰۃ(بعہدحضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ ) کےبعد یہ دوسرا فتنہ عظیم تھا جو اسلام کو پیش آیا تو کیا اس وقت علمائے امت اور ائمہ شریعت سے عالم اسلام خالی ہوگیا تھا۔ غور تو کرو۔ کیسے کیسے اساطیر علم وفن اور اکابر فضل وکمال اس عہد میں موجود تھے۔ خود بغداد اہل سنت وحدیث کا مرکز تھا مگر سب دیکھتے کے دیکھتے ہی رہ گئے۔ اور عزیمت دعوت وکمال مرتبہ وراثتِ نبوت وقیام حق وہدایت فی الارض والامت کا جو ایک مخصوص مقام تھا وہ صرف ایک قائم لامر اللہ کے حصے میں آیا یعنی سید المجددین وامام المصلحین جناب امام احمد بن حنبلرحمہ اللہ ۔[1] امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ : مولانا ابو الکلام آزاد لکھتے ہیں کہ : امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ ایسے اصحاب کمال وائمہ علم تھے جو اس عہد میں موجود تھے باایں ہمہ یہ حقیقت سورج کی طرح چمک رہی ہے ۔ اور ہر صاحب بصارت پر روشن کہ مقام عزیمت دعوت کا جو ایک خاص مقام ہے وہ ان میں کسی کے حصے میں نہ آیا۔ وہ صرف شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ ہی کے لیے تھا۔ سب اپنے دوسرے دوسرے کاموں میں رہ گئے لیکن انہوں نے وہ سب کام بھی ان سے بہتر کئے جو وہ سب کر رہےتھے پھر اُن سے بڑھ کر یہ کہ سب کو راہ عزیمت دعوت وتجدید واحیاء ملت ورفع اعلام سنت واخماد شروبدعت وکشف وابراز معارف مستورہ کتاب وسنت وغوامض وسرائر معارف وحکمت نبوت و انفجار
[1] تذکرہ ،ص:134، مطبوعہ مکتبہ جمال ، لاہور