کتاب: البیان شمارہ 23 - صفحہ 87
مرزا اور اُس کے مخالفین :
مرزا مولانا محمد حسین بٹالوی رحمہ اللہ کے متعلق لکھتا ہے: ’’پلید ، بے حیا، سفلہ ۔‘‘[1]
فاتح قادیان مولانا ثناء اللہ امر تسری رحمہ اللہ کے متعلق لکھتا ہے:
’’کفن فروش ،کتا۔‘‘ [2]’’خبیث، سور، کتا، بدذات، گوں خور۔‘‘[3]
مولانا سعد اللہ لدھیانوی رحمہ اللہ کے متعلق لکھتا ہے:
’’غول، لئیم، فاسق، ملعون، نطفہ، سفہار، خبیث،کنجری کا بیٹا۔‘‘ [4]
مرزا اور دنیا بھر کے مسلمان :
قارئینِ کرام ! یہ تو تھی مرزا کی پلید و نجس زبان جو اُس نے اپنے مخصوص مخالفین کے لیے استعمال کی ۔ اب ملاحظہ فرمائیں مرزا کی وہ گھٹیا و گندی زبان جو اُس نے دنیا بھر کے جملہ مسلمانوں کے خلاف استعمال کی :
مرزا لکھتا ہے: ’’کُل مسلمانوں نے مجھے قبول کر لیا اور میری دعوت کی تصدیق کر لی مگر ’کنجریوں اور بدکاروں کی اولاد‘ نے مجھے نہیں مانا۔‘‘[5]
’’جو دشمن میرا مخالف ہے وہ’ عیسائی ، یہودی ، مشرک اور جہنمی ‘ہے۔‘‘[6]
دیکھیے کہ تمام مسلمان مرزا اور اُس کی حواریوں کے نزدیک یہودی ، عیسائی ، مشرک اور جہنمی ہیں ۔
’’میرے مخالف جنگلوں کے ’سؤر‘ ہو گئے اور ان کی عورتیں ’کتیوں ‘سے بڑھ گئیں ۔[7]
[1] ضیاء الحق: ص 133
[2] اعجاز احمدی: ص 23
[3] بحوالہ الہٰمات مرزا از شیخ الاسلام :ص 122، حاشیہ
[4] انجام آتھم: ص:281
[5] آئینہ کمالات ص 547
[6] نزول المسیح ص 4، تذکرہ 227
[7] نجم الہدیٰ ص 53