کتاب: البیان شمارہ 23 - صفحہ 38
النَّبِيِّينَ، لَا نَبِيَّ بَعْدِي‘‘[1]
ترجمہ: ثوبان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’عنقریب میری امت میں کذاب اور جھوٹے لوگ ظاہر ہوں گے ،ان کی تعداد تیس ہو گی ، ان میں سے ہر ایک کا دعوی ہو گا کہ وہ نبی ہے ۔ حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں ،میرے بعد کوئی نبی نہیں ۔‘‘
13.’’إِنَّ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ كَذَّابِينَ فَاحْذَرُوهُمْ‘‘[2]
ترجمہ: سیدنا جابر بن سمرۃ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ بے شک قیامت سے قبل کئی جھوٹے ( نبوت کے دعویدار ) آئیں گے ان سے بچنا۔‘‘
منصب نبوت پر ڈاکہ سب سے سنگین اور بڑا جرم ہے ، اس کی سنگینی کو تعالیٰ نے قرآن مجید میں کئی مقامات پر واضح فرمایا ہے ، فرمان باری تعالیٰ ہے: ﴿وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا أَوْ قَالَ أُوحِيَ إِلَيَّ وَلَمْ يُوحَ إِلَيْهِ شَيْءٌ﴾ (الانعام: 93)ترجمہ : ’’اور اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہوسکتا ہے جس نے اللہ پر بہتان باندھا یا جس نے کہا کہ میری طرف وحی کی گئی ہے حالانکہ اس کی طرف کچھ بھی وحی نہ کی گئی ہو۔‘‘ لیکن ایسے بد بخت لوگ بہرحال موجود ہیں جو اس اعلی و ارفع منصب پر ڈاکہ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں اپنی امت کو پہلے ہی آگاہ فرمادیا ہے، لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جو بھی نبوت کا دعوی کرے گا وہ جھوٹا ، مرتد اور واجب القتل ہے۔
7.مثالوں کے ذریعہ ختم نبوت کا بیان :
14.’’عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صلى اللّٰه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:’’إِنَّ مَثَلِي وَمَثَلَ الْأَنْبِيَاءِ مِنْ قَبْلِي كَمَثَلِ رَجُلٍ بَنَى بَيْتًا فَأَحْسَنَهُ وَأَجْمَلَهُ إِلَّا مَوْضِعَ لَبِنَةٍ مِنْ زَاوِيَةٍ فَجَعَلَ النَّاسُ يَطُوفُونَ بِهِ وَيَعْجَبُونَ لَهُ وَيَقُولُونَ
[1] سنن ابی داؤد ، کتاب: فتنوں اور جنگوں کا بیان ،فتنوں کا بیان اور ان کے دلائل ، حدیث نمبر: 4252۔شیخ البانی نے ا س حدیث کو صحیح قرار دیا ہے۔
[2] صحیح مسلم ،کتاب: امور حکومت کا بیان ، لوگ قریش کے تابع ہیں اور خلافت قریش میں ہی ہو گی، حدیث: 4711