کتاب: البیان شمارہ 23 - صفحہ 290
’’میری نظر سے ایک رسالہ ضالۃ کا مقالہ مسمیٰ’’باعلام الناس‘‘ گزرا کہ از سرتاپا پُر از تضلیل ہے اور اس میں کلام رب الجلیل کی خوب ہی باطل تاویل اور اقوال نبوی کی پوری پوری تحریف و تبدیل ہے۔ صاحب رسالہ نے اس رسالہ کو تائید میں ایک پنجابی (مدعی) کے لکھا ہے۔ جس نے کلام اللہ اور کلام رسول کو تاویل فاسد اور تحریف باطل کرتے کرتے درجہ اہمال اور تعطیل کو پہنچا دیا اور اپنے آپ کو مسیح کا مثیل بنا لیا۔‘‘[1] ’’شفاء للناس‘‘ ۱۳۰۹ھ میں شایع ہوئی۔ مولانا اللہ وسایا ردّ قادیانیت میں اس تاریخی اہمیت کی حامل کتاب کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں : ’’مرزا قادیانی کا ایک مرید محمد احسن امروہوی تھا۔ اس کذاب مرید نے اکذب پیر کے حق میں کتاب لکھی۔ جس کا نام’’اعلام الناس‘‘ تھا۔ اسے مرزا قادیانی نے پڑھا تو خوب تعریف کے پل باندھے۔ غرض’’اعلام الناس‘‘مرزا قادیانی کی تصدیق شدہ سمجھی گئی۔ کادیانی کتاب ’’اعلام الناس‘‘ کا حضرت مولانا محمد عبد اللہ شاہجہاں پوری نے ۱۳۰۹ھ (مطابق ۱۸۹۱ء، ۱۸۹۲ء) میں جواب لکھا۔ اس کتاب کے شائع ہونے کے بعد مرزا قادیانی سولہ سال زندہ رہا لیکن اس کتاب کا رد لکھنے کی دجال قادیان کو جراَت نہ ہوئی۔ چنانچہ اس عجز و بے بسے نے مرزا کادیانی کو سولہ آنے جھوٹا ثابت کر دیا۔‘‘ [2] وفات ۱۳۱۰ھ یا اس کے کچھ بعد مولانا کی وفات ہوئی۔ مولانا عبد اللہ نے زیادہ عمر تو نہیں پائی اور نہ ہی دنیا ان کے علمی کمالات سے صحیح طور سے مستفید ہو سکی تاہم رد قادیانیت کی تاریخ میں مولانا کا نام اور ان کی کتاب ہمیشہ زندہ رہے گی۔[3]
[1] شفاءللناس بحولہ احتساب قادیانیت،ج ۴۲، ص: ۲۴۱ [2] احتساب قادیانیت،ج ۴۲، ص: ۵ [3] مولانا عبد اللہ شاہجہاں پوری کے حالات کے لیے ملاحظہ ہو : تاریخ شاہجہاں پور ،حصہ دوم، ص: ۱۸۴، احتساب قادیانیت،ج ۴۲، ص: ۵