کتاب: البیان شمارہ 23 - صفحہ 289
’’حضرت مولانا و مقتدانا شیخنا و شیخ الکل محی السنہ قامع البدعۃ امام الوقت استاذی حاجی الحرمین مولانا مولوی سیّد محمد نذیر حسین صاحب محدث دہلوی مدظلہ العالی۔‘‘[1] مولوی صبیح الدین شاہجہاں پوری نے ’’تاریخ شاہجہاں پور‘‘ میں مولانا کا مختصر سا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا ہے: ’’مولوی عبد اللہ نے ۲۲ سال کی عمر میں انتقال کیا۔ اکتساب علم اپنے بھائی اور علماء دہلی سے کیا تھا۔ نہایت ذہین اور ذی استعداد تھے۔ اگر یہ دونوں بھائی (مولانا ابو یحییٰ اور مولانا عبد اللہ) عمر طبعی کو پہنچتے تو اس صوبہ میں باعتبار علم و فضل نہایت ممتاز اور یگانہ عصر ہوتے یہ دونوں بھائی دنیا سے کیا گئے کہ علم ہی شاہجہاں پور سے رخصت ہو گیا۔‘‘[2] شفاء للناس مولانا عبد اللہ کو تصنیف و تالیف کا ازحد شوق تھا انھوں نے ردّ قادیانیت میں ایک اہم کتاب تالیف فرمائی جس کا نام’’شفاء للناس‘‘ تھا۔ اس تالیف کا پسِ منظر کچھ یوں ہے کہ اکتوبر ۱۸۹۱ء /۱۳۰۹ھ میں دہلی میں دجالِ کاذب مرزا قادیانی کا علامہ بشیر سہسوانی سے مناظرہ ہوا جس میں مرزا دورانِ مناظرہ ہی اپنے خسر کی دہلی اسٹیشن پر آمد کا بہانہ کرکے ان کے استقبال کے حیلے سے باہر نکلا اور پھر لوٹ کر دہلی میں قدم نہ رکھا۔ مولانا سہسوانی نے خسر کی مناسبت سے ’’خسر الدنیا و الآخرۃ، ذٰلک ھو الخسران المبین‘‘ آیت پڑھی اور بعد ازاں اس مناظرے کی روداد’’الحق الصریح فی اثبات حیات المسیح‘‘ کے نام سے لکھی، کیونکہ مناظرہ حیات مسیح کے موضوع پر تھا۔ مرزا قادیانی کے ایک مرید محمد احسن امروہوی نے ’’اعلام الناس‘‘کے نام سے کتاب لکھی جس میں اس مدعی کاذب کی حمایت کی اور کئی خلاف حقیقت باتیں لکھ ڈالیں ۔ مولانا عبد اللہ شاہجہاں پوری نے ’’اعلام الناس‘‘ کا جواب ’’شفاء للناس‘‘ کے نام سے لکھا، مولانا لکھتے ہیں :
[1] شفاء اللناس بحوالہ احتساب قادیانیت ،ج ۲، ص: ۲۴۶ [2] تاریخ شاہجہاں پور ،حصہ دوم، ص ۱۸۴