کتاب: البیان شمارہ 23 - صفحہ 288
صرف ۲۲ برس کی عمر میں وفات پا گئے۔ یہ مولانا کفایت اللہ کی زندگی کی بڑی آزمائش رہی کہ ان کے دو فرزندوں نے جواں سالگی کے عالم میں ان کے سامنے وفات پائی۔ مولوی صبیح الدین شاہجہاں پوری لکھتے ہیں : ’’اگر یہ دونوں بھائی (مولانا ابو یحییٰ اور مولانا عبد اللہ) عمر طبعی کو پہنچتے تو اس صوبہ میں باعتبار علم و فضل نہایت ممتاز اور یگانہ عصر ہوتے یہ دونوں بھائی دنیا سے کیا گئے کہ علم ہی شاہجہاں پور سے رخصت ہو گیا۔‘‘[1] مولانا کفایت اللہ کے تیسرے فرزند منشی فضل اللہ اعلیٰ درجہ کے خوشنویس تھے اور دہلی میں کتابت کیا کرتے تھے۔ مولانا کفایت اللہ نے ۱۳۳۱ھ میں وفات پائی۔[2] مولانا عبد اللہ شاہجہاں پوری مولانا عبد اللہ بن کفایت اللہ شاہجہاں پوری بلدئہ شاہجہاں پور کے جواں سال اہلِ علم تھے جن کے فضائل و کمالات کے آثار ظاہر ہونا شروع ہی ہوئے تھے کہ پیام اجل نے انھیں آ لیا۔ لیکن اللہ رب العزت نے مختصر سی اس زندگی میں انھیں عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ میں ایک اہم علمی خدمت انجام دینے کی توفیق عطا کی۔ ردّ قادیانیت کی علمی تاریخ میں مولانا کی علمی خدمت ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔ حالات زندگی مولانا عبد اللہ نے ابتدائی تعلیم اور کتبِ درسیہ کی تحصیل اپنے والد بزرگوار مولانا کفایت اللہ اور برادر بزرگ مولانا ابو یحییٰ محمد شاہجہاں پوری سے حاصل کی۔ اس کے بعد دہلی تشریف لے گئے جہاں شیخ الکل سیّد نذیر حسین محدث دہلوی سے کتب حدیث و تفسیر پڑھیں ۔ و نیز بعض دیگر علماء سے بھی استفادہ کیا۔ اپنے عالی قدر استاد سیّد نذیر حسین دہلوی سے مولانا کو بڑی عقیدت تھی۔ اپنی کتاب ’’شفاءللناس‘‘ میں اپنے استاذِ حدیث کا ذکر اس عقیدت کے ساتھ کرتے ہیں :
[1] تاریخ شاہجہاں پور ،حصہ دوم، ص ۱۸۴ [2] مولانا کفایت اللہ شاہجہاں پوری کے حالات کے لیے ملاحظہ ہو : الارشاد الیٰ سبیل الرشاد،ص: ۲۲۷)، تاریخ شاہجہاں پور ،حصہ دوم، ص: ۱۸۲، ۱۸۳