کتاب: البیان شمارہ 23 - صفحہ 287
حضرت میاں نذیر حسین محدث دہلوی کے شاہجہاں پوری تلامذہ میں حسبِ ذیل علما کے ناموں سے آگاہی ہو سکی: 1. مولانا حکیم ابو یحییٰ محمد مصنف ’’الارشاد الیٰ سبیل الرشاد‘‘ 2. مولانا کفایت اللہ 3. مولانا عبد اللہ 4. مولانا محمد حسن 5. مولانا محمد حسین[1] مولانا کفایت اللہ شاہجہاں پوری: ان کا اصل وطن ارض بنگال تھا۔ نہایت شریف اور متدین بزرگ تھے۔ شاہجہاں پور کو اپنا مسکن بنایا اور یہیں پوری زندگی گزار دی۔ ملا محمد نظام شاہجہاں پوری کے داماد تھے۔ مولانا کفایت اللہ نے مختلف علما سے کسبِ علم کے بعد شیخ الکل سیّد میاں نذیر حسین محدث دہلوی سے حدیث کی تحصیل کی۔ تکمیل علم کے بعد مولانا نے شاہجہاں پور میں سلسلہ تدریس شروع کیا۔ مولانا کفایت اللہ کے صاحب زادے مولانا ابو یحییٰ محمد جب فارغ التحصیل ہوکر آئے تو انھوں نے اس ابتدائی درس گاہ کو ’’دار الحدیث‘‘ میں تبدیل کر دیا۔ اساتذہ بھی مقرر کیے۔ جس کی وجہ سے طلاب علم کی بڑی تعداد متوجہ ہوئی۔ مولانا عبد العزیز روانوی نے بھی چند برس ’’دار الحدیث‘‘ شاہجہاں پور میں تدریس کے فرائض انجام دیئے۔ اللہ نے مولانا کو تین فرزند اور بیٹیاں عطا کیں ، بیٹیوں کی تعداد سے آگاہی نہ ہوسکی۔ بیٹوں کے نام یہ ہیں : مولانا حافظ حکیم ابو یحییٰ، مولانا عبد اللہ اور منشی فضل اللہ۔ بڑے فرزند حضرت میاں صاحب کے تلمیذ رشید تھے اور اپنے زمانے کے مشہور اہلِ حدیث عالم تھے۔ رد تقلید میں ان کی کتاب’’الارشاد الیٰ سبیل الرشاد‘‘ عوام و خواص میں مشہور ہے۔ دوسرے فرزند مولانا عبد اللہ ذی استعداد اور نہایت ذہین تھے، مگر
[1] الحیاۃبعد المماۃ ( ص :364) مولانا فضل حسین نے شاہجہاں پور کے ذیل میں مولانا حکیم ہدایت علی کا نام بھی لکھا ہے لیکن ان کا اصل تعلق مراد آباد سے تھا جہاں انہوں نے اپنی عملی زندگی بھی گزاری۔