کتاب: البیان شمارہ 23 - صفحہ 225
ایک جگہ ایک اور من گھڑت روایت کو یہ ’’شرف ‘‘ ملا کہ مرزا کے الہام کا حصہ بن گئی لکھتا ہے :
’’لولاک لما خلقت الافلاک‘‘یعنی : اگر میں تجھے پیدا نہ کرتا تو آسمانوں کو پیدا نہ کرتا ۔ [1]
ایک اور حدیث چوری کرکے اپنا الہام بنا کر پیش کی :’’انت مدینة العلم الخ‘‘[2]
ایک طرف تو موصوف ردی کی طرح پھینکے اور دوسری طرف اسی پھینکے ہوئے کو الہام بنا ئیں ، یہ فسانہ کیا کہیے !!
سمجھ میں آ تو سکتی ہے صبا کی گفتگو بھی
مگر اس کے لیے معصوم ہونا لازمی ہے
خلاصہ یہ ہے کہ موصوف کی عبارات میں ایمان بالکتب کے منافی بکثرت مواد موجود ہے ، جن میں :
٭ گذشتہ آسمانی کتابوں کی تنقیص موجود ہے ۔
٭ گذشتہ آسمانی کتابوں کے اسالیب کی نقالی کرکے مرزا نے اپنے الہام یا وحی کے طور پر پیش کیا ہے۔
٭ قرآن کریم کے اسالیب کی نقالی ، آیات و الفاظ کی نقالی کو مرزائی الہام بناکر پیش کیا گیا ہے جو ٭ قرآن کریم کی توہین ہے۔
٭ قرآن کریم کے الفاظ میں تحریف کی ہے ۔
٭ قرآن کریم کے معنی ٰ میں تحریف کی ہے۔
یہ تمام امور ایمان بالکتب کے منافی ہونے کے باعث کفر کا سبب ہیں ۔
صحابہ کے بارے میں مسلمانوں کا عقیدہ اور مرزائی لٹریچر
انبیاء کے بعد سب سے پاکباز طبقہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا ہے ، جنہیں خیر القرون ، فتنوں سے بچاؤ کا ذریعہ ، جنت کی بشارتوں سے نوازا گیا ہے۔ اللہ ان سے راضی وہ اللہ تعالیٰ سے راضی ہیں ، صحابہ کرام کی تنقیص ، گستاخی کفر کا سبب بن سکتی ہے ، مرزائی لٹریچر میں صحابہ کرام کی تنقیص موجود ہے۔
[1] روحانی خزائن : 22 / 102
[2] روحانی خزائن : 17 / 423