کتاب: البیان شمارہ 23 - صفحہ 187
پہلے حکم دیتا ہے اور بعد ازاں وہ اپنی درخواست پیش کرتے ہیں ،میں بحکم خداوندی کے معنی منظور خاطر خدایا تحریک خدا یعنی پر ماتما کی ’’پریرنا‘‘ لیتا ہوں۔
ممکن ہے خداوند تعالیٰ چونکہ ہمہ دان ہے اپنے ماموروں اور مقبولین کو جس اس صفت سے موصوف نہیں ہیں تحریک کردے۔ جس تحریک کا ان مامورین کو مطلقاً اس وقت پتہ نہ ہووے۔یا بعد میں پتہ ہووے یا تحریک کا نتیجہ پیدا ہونے کے بعد بھی اس تحریک کا پتہ لگےاور نتیجہ پیدا ہونے سے پیشتر وہ کل عرصہ اس تحریک سے بے خبر رہیں ۔
میری رائے ناقص میں بحکم خداوندی ہونیکا کا ایک یہ بھی معیار ہے کہ کسی فعل کا نتیجہ کیا ہوا ہے۔اگر نتیجہ الفاظ استدعا کے مطابق ہوا ہے تو اس سے یہ قیاس پیدا ہوتا ہے کہ یہ استدعا خداوند تعالیٰ کے حکم سے ہی تھی لیکن اگر نتیجہ استدعا کے برخلاف ہوتا ہے تو قیاس یہ پیدا ہوتا ہے کہ فلاں استدعا خلاف حکم ایزدی تھی۔پس جب اس معیار سے بھی دعا مندرجہ اشتہار کو دیکھا جاوے تو چونکہ نتیجہ بالفاظ سائل پیدا ہوا اس واسطے قیاس یہ ہے کہ یہ اشتہار بحکم ایزدی دیا گیا ۔
اگر ان قیاسات کو چھوڑ کر واقعات متعلقہ اشتہار متنازعہ کو دیکھا جائے تو بھی میری رائے ناقص میں یہی نتیجہ نکلتا ہے جو میں نےاوپر درج کیا ہے۔
اول سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اشتہار مرزا صاحب کے دست مبارک سے کب کاعذ پر ظہورمیں آیا۔بے شک چھاپہ شدہ کاغذ پر تاریخ 15 اپریل 1907ء درج ہے مگر میری رائے ناقص میں وہ مرزا صاحب کے دست مبارک سے نہیں ہے بلکہ کاتب کے ہاتھ کی ہے۔ میں نے مزید تسلی کے لیےمیرقاسم علی صاحب سے دریافت کیا کہ اصل مسودہ کہاں ہے جس کا کوئی تسلی بخش جواب نہیں ملا۔اگر صرف چھاپہ شدہ تاریخ پر کسی امر کا فیصلہ کیا جاوے تو میں نہیں جانتا کہ کاروبار دنیا میں کیسی گڑ بڑ مچ جائے گی وہ سول اینڈ ملٹری گزٹ جس پر کہ 20 اپریل 1912ء چھپی ہوئی تھی وہ یہاں لدھیانہ میں 19 اپریل 1912ء کی شام کو کئی اصحاب کی ردی کی ٹوکری میں چلا گیا تھا۔پھر نہیں معلوم کہ اس میں چھپے ہوئے مضمون 19 اپریل سے کتنا عرصہ پیشتر مصنفین کے ہاتھوں سے نکل چکے ہوں گے۔حضورملک معظم شہنشاہ ہند کے دہلی دربار کے موقعہ پر جو اعلان