کتاب: البیان شمارہ 23 - صفحہ 132
میں میری تکذیب اور تفسیق کا سلسلہ جاری ہے۔ ۔۔۔۔اگر میں ایسا ہی کذاب اور مفتری ہوں جیسا کہ اکثر اوقات آپ اپنے ہر پرچہ میں مجھے یاد کرتے ہیں تو میں آپ کی زندگی میں ہلاک ہو جاؤں گا کیوں کہ میں جانتا ہوں کہ مفسد اور کذاب کی بہت عمر نہیں ہوتی اور آخر وہ ذلت اور حسرت کے ساتھ اپنے اشد دشمنوں کی زندگی میں ہی ناکام و ہلاک ہو جاتا ہے اور اس کا ہلاک ہونا ہی بہتر ہوتا ہے، تاکہ خدا کے بندوں کو تباہ نہ کرے اور اگر میں کذاب اور مفتری نہیں ہوں اور خدا کے مکالمہ اور مخاطبہ سے مشرف ہوں اور مسیح موعود ہوں تو میں خدا کے فضل سے امید رکھتا ہوں کہ سنت اﷲ کے موافق آپ مکذبین کی سزا سے نہیں بچیں گے۔ پس اگر وہ سزا جو انسان کے ہاتھوں سے نہیں بلکہ محض خدا کے ہاتھوں سے ہے ، جیسے طاعون، ہیضہ وغیرہ مہلک بیماریاں آپ پر میری زندگی میں ہی وارد نہ ہوئیں تو میں خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں ۔ ۔۔۔اگر یہ دعویٰ مسیح موعود ہونے کا محض میرے نفس کا افترا ء ہے اور میں تیری نظر میں مفسد اور کذاب ہوں اور دن رات افتراء کرنا میرا کام ہے تو اے میرے پیارے مالک! میں عاجزی سے تیری جناب میں دعا کرتا ہوں کہ مولوی ثناء اﷲ صاحب کی زندگی میں مجھے ہلاک کر دے اور میری موت سے ان کو اور ان کی جماعت کو خوش کر دے۔(آمین)
میں ملتجی ہوں کہ مجھ میں اور ثناء اﷲ میں سچا فیصلہ فرما اور وہ جو تیری نگاہ میں درحقیقت مفسد اور کذاب ہے اس کو صادق کی زندگی میں دنیا سے اٹھا لے یا کسی اور نہایت سخت آفت میں جو موت کے برابر ہو مبتلا کر، اے میرے پیارے مالک تو ایسا ہی کر آمین ثم آمین! رَبَّنَا افْتَحْ بَیْنَنَا وَ بَیْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَاَنْتَ خَیْرُ الْفَاتِحِیْنَ۔[1]
قارئینِ کرام! ذرا غور فرمائیں کہ یہ مرزا غلام احمد قادیانی کا وہ اشتہار تھا جس کے نتیجے میں مرزا غلام احمد قادیانی چند ماہ بعد ہی 26مئی 1908ء بروز منگل ہیضہ کے موذی مرض میں مبتلا ہو کر واصل جہنم ہوا۔ جب کہ فاتح قادیان مولانا ثناء اﷲ امرتسری رحمۃ اﷲ علیہ اس کے بعد چالیس سال تک زندہ رہے اور ان کی وفات 1948ء کو سرگودھا میں ہوئی۔
الّٰلھُمَّ أرِنا الحقَّ حقّاً وارزُقنا اتِّباعَه و أرِنا الباطِلَ باطلاً وارزُقنا اجتنابَه
[1] مجموعہ اشتہارات جلد 2صفحہ 705طبع چہارم