کتاب: البیان شمارہ 23 - صفحہ 121
1898ء میں امام زماں ہونے کا دعویٰ ’’سو میں اس وقت بے دھڑک کہتا ہوں کہ خداتعالیٰ کے فضل اور عنایت سے وہ امام زماں میں ہوں ۔‘‘[1] 1900ء تا 1908 ظلی نبی ہونے کا دعویٰ ’’جب کہ میں بروزی طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہوں اور بروزی رنگ میں تمام کمالات محمدی مع نبوت محمدیہ کے میرے آئینہ ظلیت میں منعکس ہیں ۔ تو پھر کون سا الگ انسان ہوا جس نے علیحدہ طور پر نبوت کا دعویٰ کیا۔‘‘[2] نبوت ورسالت کا دعویٰ 1.… ’’انا انزلناہ قریباً من القادیان ہم نے اس کو قادیان کے قریب اتارا ہے۔‘‘[3] 2.… ’’سچا خدا وہی خدا ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔‘‘ [4] 3.… ’’میں رسول بھی ہوں اور نبی بھی ہوں ۔ یعنی بھیجا گیا بھی اور خدا سے غیب کی خبریں پانے والا بھی۔‘‘[5] 4.… ’’خدا وہ خدا ہے جس نے اپنے رسول کو یعنی اس عاجز کو ہدایت اور دین حق اور تہذیب اخلاق کے ساتھ بھیجا۔‘‘[6] 5.… ’’وہ قادر خدا قادیان کو طاعون کی تباہی سے محفوظ رکھے گا۔ تاتم سمجھو کہ قادیان اسی لئے محفوظ رکھی گئی کہ وہ خدا کا رسول اور فرستادہ قادیان میں تھا۔‘‘[7]
[1] ضرورۃ الامام ص۲۴، خزائن ج۱۳ ص۴۹۵ [2] ایک غلطی کا ازالہ ص۸، خزائن ج۱۸ ص۲۱۲ [3] براہین احمدیہ ص۴۹۹، خزائن ج۱ ص۵۹۳، الحکم ج۴، ش۳۰، مورخہ ۲۴؍اگست ۱۹۰۰ئ، بحوالہ تذکرہ ص۳۶۷ طبع سوم [4] دافع البلاء ص۱۱، خزائن ج۱۸ ص۲۳۱ [5] ایک غلطی کا ازالہ ص۷، خزائن ج۱۸ ص۲۱۱ [6] اربعین نمبر۳ ص۳۶، خزائن ج۱۷ ص۴۲۶، ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص۲۴، خزائن ج۱۷ ص۷۳ [7] دافع البلاء ص۵، خزائن ج۱۸ ص۲۲۵،۲۲۶