کتاب: البیان شمارہ 23 - صفحہ 120
1886ء میں توحید وتفرید کا دعویٰ
الہام: ’’تو مجھ سے ایسا ہے جیسی میری توحید اور تفرید۔‘‘ [1]’’تو مجھ سے اور میں تجھ سے ہوں ۔‘‘ [2]
1889ء میں مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ
’’اﷲ جل شانہ کی وحی اور الہام سے میں نے مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ کیا ہے اور یہ بھی میرے پر ظاہر کیاگیا ہے کہ میرے بارے میں پہلے سے قرآن شریف اور احادیث نبویہ میں خبر دی گئی ہے اور وعدہ دیاگیا ہے۔‘‘[3]
1891ء میں مسیح ابن مریم ہونے کا دعویٰ
الہام: ’’جعلناک المسیح بن مریم (ہم نے تجھ کو مسیح ابن مریم بنایا) ان کو کہہ دے کہ میں عیسیٰ کے قدم پر آیا ہوں ۔‘‘[4]’’ابن مریم کے ذکر کو چھوڑواس سے بہتر غلام احمد ہے‘‘[5]
1892ء میں صاحب ِکن فیکون ہونے کا دعویٰ
الہام: ’’انما امرک اذا اردت شیئًا ان تقول له کن فیکون یعنی تیری یہ بات ہے کہ جب تو کسی چیز کا ارادہ کرے تو اسے کہے کہ ہو جا تو وہ ہو جائے گی۔‘‘[6]
1898ء میں مسیح اور مہدی ہونے کا دعویٰ
’’بشرنی وقال ان المسیح الموعود الذی یرقبونہ والمھدی المسعود الذی ینتظرونہ ھوانت خدا نے مجھے بشارت دی اور کہا کہ وہ مسیح موعود اور مہدی مسعود جس کا انتظار کرتے ہیں وہ تو ہے۔‘‘[7]
[1] تذکرہ ص۳۸۱ طبع دوم
[2] تذکرہ ص۴۳۶، طبع دوم
[3] تذکرہ ص۱۷۲، طبع سوم، تبلیغ رسالت ج۱ ص۱۵۹، مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۲۰۷
[4] تذکرہ ص۱۸۶، طبع سوم، ازالہ اوہام ص۴۳۴، خزائن ج۳ ص۴۴۲
[5] دافع البلاء ص۲۰، خزائن ج۱۸ ص۲۴۰
[6] تذکرہ: صفحہ 203 طبع سوم، براہین احمدیہ حصہ۵ ص۹۵، خزائن ج۲۱ ص۱۲۴
[7] تذکرہ ص۲۵۷، طبع سوم، اتمام الحجۃ ص۳، خزائن ج۸ ص۲۷۵