کتاب: البیان شمارہ 23 - صفحہ 112
تھا کہ عیسیٰ علیہ السلام شراب پیا کرتے تھے شاید کسی بیماری کی وجہ سے یا پرانی عادت کی وجہ سے۔‘‘ [1]’’عیسیٰ (علیہ السلام )کو گالی دینے ، بد زبانی کرنے اور جھوٹ بولنے کی عادت تھی اور چور بھی تھے ۔ [2]’’یسوع (علیہ السلام ) اسلیے اپنے تئیں نیک نہیں کہہ سکتا کہ لوگ جانتے تھے کہ یہ شخص شرابی کبابی ہے اور خراب چلن ، نہ خدائی کے بعد بلکہ ابتداء ہی سے ایسا معلوم ہوتا ہے چنانچہ خدائی کادعویٰ شراب خوری کا ایک بد نتیجہ ہے۔ [3] ’’ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو ۔ اس سے بہتر غلام احمد ہے۔[4]
اہلِ بیتِ اطہار رضی اللہ عنہم اجمعین کی توہین:
سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ کی توہین:
مرزا لکھتا ہےکہ: پرانی خلافت کا جھگڑا چھوڑو اب نئی خلافت لو ۔ ایک زندہ علی ( مرزا ) تم میں موجود ہے اس کو چھوڑتے ہو اور مردہ علی( رضی اللہ عنہ ) کو تلاش کرتے ہو۔ [5]
جگر گوشہِ رسول سیدہ فاطمہ الزاہرا رضی اللہ عنہا کی توہین:
مرزا لکھتا ہےکہ: ’’حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا نے کشفی حالت میں اپنی ران پر میرا سر رکھا اور مجھے دکھایا کہ میں اس میں سے ہوں ۔‘‘[6]
نواسہ رسول سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی توہین:
مرزا لکھتا ہےکہ:’’اور میں خدا کا کشتہ ہوں اور تمہارا حسین دشمنوں کا کشتہ ہے پس فرق کھلا کھلا اور ظاہر
[1] کشتی نوح حاشیہ ص:75 مصنفہ غلام احمد قادیانی
[2] ضمیمہ انجام آتھم ص:6،5
[3] ست بچن ، حاشیہ ، ص:172، مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی
[4] دافع البلاء ص:20
[5] ملفوظات احمدیہ :131،جلداول
[6] ایک غلطی کا ازالہ حاشیہ ص 9مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی