کتاب: البیان شمارہ 22 - صفحہ 41
7.ایک بار سورگ گرہن ہوا،نماز کسوف میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم روتے تھے اور دعا میں فرماتے تھے: رب الم تعدنی الا تعذبھم وانا فيھم وہم يستغفرون ونحن نستغفرك[1] ’’اے پروردگار تو نے وعدہ فرمایا ہے کہ ان لوگوں کو (بہر دو صورت) عذاب نہ دیا جائےگا۔جب تک میں ان کے درمیان موجود ہوں ۔جب تک یہ استغفار کرتے رہیں ،اب اے خدا میں موجود ہوں اور سب استغفار بھی کررہے ہیں ۔‘‘ لكل نبی دعوہ یدعوا بھا فاستجیب لھا فجعلت دعوتی شفاعۃ لامتی یوم القیٰمۃ[2] ’’ہر ایک نبی کے لیے ایک ایک دعا تھی وہ مانگتے رہے اور دعا قبول ہوتی رہی میں نے اپنی پوری دعا کو اپنی امت کی شفاعت روزِقیامت کے لیےمحفوظ رکھا ہے۔‘‘ عدل ورحم اگر دواشخاص کے درمیان جھگڑا ہوتا توعدل فرماتے اگر کسی شخص کا نفس مبارک کے ساتھ کوئی معاملہ ہوتا تو رحم فرماتے۔ 1.فاطمہ نامی ایک عورت نے مکہ میں چوری کی لوگوں نے حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ سے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت پیارتھے،فرمایاکیا تم حدود ِ الٰہی میں سفارش کرتے ہو،سنو! اگرفاطمہ بنت محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھی ایسا کرتی تو میں حد جاری کرتا۔[3] 2. سواد بن عمر کہتے ہیں کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے درس کا ایک رنگین کپڑا پہن کر گئے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حُط حُط فرمایا اور چھڑی سے ان کے شکم میں ٹھوکا بھی دیا۔میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں توقصاص لوں گا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جھٹ سے اپنا شکم برہنہ کرکے میرے سامنے کردیا۔[4]
[1] زادالمعاد جلد،1ص:49 [2] صحیح بخاری عن انس رضی اللّٰہ عنہ کتاب الدعوات [3] صحیح بخاری عن عائشہ رضی اللّٰہ عنھا،کتاب الحدود [4] شفاء قاضی عیاض ،ص:31