کتاب: البیان شمارہ 22 - صفحہ 39
مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں منبر رکھ دیا جاتا جس پر چڑھ کر وہ اشعار پڑھا کرتے تھے۔ خادم کے لیے دعا انس بن مالک رضی اللہ عنہ دس سال تک مدینہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی اس عرصہ میں کبھی ان سے یہ نہ کہا کہ یہ کام کیوں نہ کیا اور ایک روز ان کے حق میں دعا فرمائی۔ اللّٰہمَّ أَكْثِرْ مَالَہ وَوَلَدَہ، وَبَارِكْ لَہ فِيمَا أَعْطَيْتَہ[1] ’’الٰہی اسے مال بھی دے اور اولاد بھی بہت دےاور جو کچھ اسے عطا کیا جائے اس میں برکت بھی دے۔‘‘ ادب وتواضع 1.مجلس میں کبھی پاؤں پھیلا کر نہ بیٹھتے۔ 2. جو کوئی مل جاتا اسے سلام پہلے خود کردیتے۔ 3.مصافحہ کےلیے خود پہلے ہاتھ پھیلادیتے۔ 4. صحابہ کو کنیت کے نام سے پکارتے(عرب میں عزت سے بلانے کا یہی طریق ہے)۔ 5. کسی کی بات کبھی قطع نہ فرماتے۔ 6. اگرنماز میں ہوتے اور کوئی شخص پاس آبیٹھتا،تو نماز کو مختصر کردیتے اور اس کی ضرورت پوری کردینے کے بعد پھر نماز میں مشغول ہوتے۔ 7. اکثر متبسم رہتے۔[2] 8.آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک ناقہ کا نام عضباء تھا۔کوئی جانور اس سے آگے نہیں بڑھ سکا تھا،ایک اعرابی اپنی سواری پر آیا اور عضباء سےآگے نکل گیا۔مسلمانوں کویہ بہت ہی شاق گزرا۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان حقا علی اللّٰہ عزوجل أن لا یرفع شیئا من ہذہ الدنیا الا وضعہ[3] ’’ دنیا میں خدا کی سنت یہی ہے کہ کسی کو اٹھاتا ہے تو اسے نیچا بھی دکھاتا ہے۔‘‘ 9.ایک شخص آیا اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو’يَا خَيْرَ الْبَرِيَّةِ‘ (برترین خلق)کہہ کر بلایا۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم
[1] بخاری عن انس،کتاب الدعوات [2] ماخوذ از شفاء،ص:45 [3] صحیح البخاری