کتاب: البیان شمارہ 22 - صفحہ 38
فرمایا نہیں میں سفارش کرتا ہوں ۔ وہ بولی مجھے مغیث کی حاجت نہیں ۔[1]
اہل مدینہ نر کھجور کا بور(پیوند) مادہ کھجور پر ڈالا کرتے تھے،آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اس کی کیا ضرورت ہے۔اہل مدینہ نے یہ عمل چھوڑ دیا۔نتیجہ یہ ہوا کہ پھل درختوں پر کم لگا۔لوگوں نے اس بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے گزارش کی۔فرمایا:دنیا کے کام تم مجھ سے بہتر جانتے ہو۔جب میں کوئی کام دین کا بتایا کروں تو اس کی پیروی کیا کرو۔(مشکوٰۃ)
بچوں پر شفقت
بچوں کے قریب سے گزر تے تو ان کو خود السلام علیکم کہا کرتے۔[2]ان کے سر پر ہاتھ رکھتے انہیں گود میں اٹھا لیتے۔
بوڑھوں پر عنایت
فتح مکہ کے بعد ابو بکر رضی اللہ عنہ اپنے بوڑھے،ضعیف،فاقد البصر باپ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیعت اسلام کرانے کے لیے لائے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تم نے بوڑھے کوکیوں تکلیف دی،میں خود ان کے پاس چلا جاتا۔
ارباب فضل کی قدر ومنزلت
سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو جو خندق میں سخت زخمی ہوگئے تھے۔یہودیان بنوقریظہ نے اپنا حکم اور منصف تسلیم کرکے بلایا تھا۔جب وہ مسجد تک پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ سے جو قبیلہ اوس کے تھے فرمایا:
’قوموا الیٰ سید کم‘
1.اپنے سردار کی پیشوائی کو جاؤ‘‘ لوگ گئے ان کو آگے بڑھ کر لے آئے۔
2. حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ اسلام کی تائید اور مخالفین کے جواب میں ا شعار نظم کرکے لاتے تو ان کےلیے
[1] بخاری عن ابن عباس رضی اللّٰہ عنہ،کتاب الطلاق
[2] بخاری عن انس رضی اللّٰہ عنہ کتاب الاستیذان