کتاب: البیان شمارہ 22 - صفحہ 37
باہر چھوڑدی۔پھر کرسی اتنی اونچی رکھی کہ زینہ لگانا پڑے اور بیت اللہ میں دروازہ بھی صرف ایک ہی رکھا۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک روز عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: ولا أن قومك حديث عھدہم بکفر لنقضت الکعبۃ فجعلت لھا با بین باب یدخل الناس و باب یخرجون منہ[1] ’’قریش کو مسلمان ہوئے تھوڑے ہی دن ہوئے ہیں ورنہ میں اس عمارت کو گرادیتا۔کعبہ میں دو دروازے رکھتا، ایک آنے کا اور ایک جانے کا۔‘‘ 2. جب منافقین کی شر انگیز افعال وحرکات حد سے بڑھ گئے تو عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے عرض كیا كہ انہیں قتل كردینا چاہیے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:نہیں (بے خبر لوگ كہیں گے كہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دوستوں كو قتل كرنے لگا ۔) بشریت ورسالت نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان احکام کو جو شانِ رسالت سے ظاہر ہوتے،اب افعال واقوال سے کو بطور بشریت ثابت ہوتے ہیں ہمیشہ نمایاں طور پر علیحدہ علیحدہ دکھانے کی سعی فرماتے۔ 1.ایک دفعہ فرمایا میں بشر ہوں ۔میرے سامنے تنازعات پیش ہوتے ہیں ،کوئی شخص دوسرے فریق سے اپنے مدعا کو بہتر طریق پر ادا کرنے والا ہوتا ہے۔جس سے گمان ہوجاتا ہے کہ وہ سچا ہے۔اور میں اسی کے حق میں فیصلہ کردیتا ہے۔پس اگر کسی شخص کو کسی مسلمان کے حصے میں سے اس فیصلہ کے بموجب کچھ ملتا ہے تو وہ سمجھ لے کہ یہ ایک آگ کا ٹکڑا ہے اب خواہ لے خواہ چھوڑ دے۔[2] 2. بریرہ رضی اللہ عنہا لونڈی سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مغیث اس کے شوہر کی سفارش کی جس سے وہ بوجہ آزادی(حریت)علیحدہ ہو چکی تھی۔بریرہ نے پوچھا۔یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ حکم دے رہے ہیں ۔
[1] بخاری عن ابن زبیر عن عائشہ رضی اللّٰہ عنہا امام بخاری نے اس حدیث کا باب ان الفاظ میں لکھا ہے ۔باب من ترک بعض الاختیار مخافۃ ان یقصر بعض الناس۔’’یہ باب کتاب العلم میں ہے۔‘‘ [2] بخاری عن ام سلمہ رضی اللّٰہ عنھا،کتاب المظالم