کتاب: البیان شمارہ 22 - صفحہ 34
طبیب نادان نادان طبیب کو طبابت سے منع کیا کرتے اور اسے مریض کے نقصان کا ذمہ دار ٹھہراتے۔[1] (بخاری عن اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ ۔کتاب الایمان والنذور)حرام اشیاء کو بطور دوا استعمال کرنے سے منع فرماتے۔ ارشاد فرماتے اللہ نے حرام چیزوں میں تمہارے لیے شفا نہیں رکھی۔[2] عیادت بیماراں صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے جو کوئی بیمار ہوجاتا،اس کی عیادت فرمایا کرتے،عیادت کے وقت مریض کے قریب بیٹھ جاتے۔بیمار کو تسلی دیتے۔لاباس طھور(یاکفارۃ) ان شاء اللّٰہ فرمایا کرتے۔مریض کو پوچھ لیتے کہ کس چیز کو دل چاہتا ہے اگروہ شئے اس کو مضر نہ ہوتی تو اس کا انتظام کردیا کرتے۔ایک یہودی لڑکا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کیا کرتاتھااس کی عیادت کو بھی تشریف لے گئے۔[3] علاج حالت مرض میں دوا کا استعمال خود فرمایا اور لوگوں کو بھی علاج کرنے کا ارشاد فرماتے۔ يَا عِبَادَ اللّٰہ تَدَاوَوْا،فَإِنَّ اللّٰہ عزّوجَل لَمْ يَضَعْ دَاءً إِلا وَضَعَ لَہ شِفَاءً،غیر دَاءٍ وَاحِدٍا قَالُوا، وَمَا ہوَ قَالَ الْہرَمُ [4] ’’اے بندگان خدا دوا کیا کرو،کیونکہ خدا نے ہر مرض کی شفا مقرر کی ہے۔بجز ایک مرض کے۔لوگوں نے پوچھا کہ وہ کیا ہے ؟فرمایا:کھوسٹ(بڑھاپا)۔‘‘ خطبہ خوانی زمین یا منبر پر کھڑے ہوکر یا شتروناقہ پر سوار ہوکر خطبہ فرمایا کرتے۔جس کا آغاز تشہد سے اور اختتام
[1] زادالمعاد، جلد:2،ص:35 [2] زادالمعاد، جلد:2،ص:47 [3] زادالمعاد، جلد:2،ص:53،بحوالہ بخاری عن ابن مسعودرضی اللّٰہ عنہ [4] زادالمعاد، جلد:2،ص:5،بحوالہ مسند امام احمد(المتوفی241ھ)