کتاب: البیان شمارہ 22 - صفحہ 199
لیکن مولانا عامر عثمانی صاحب کا کیا کیا جائے جو کہ عرصۂ دراز تک تجلّی کے صفحات کو جناب محمود احمد عباسی کی کتاب’’خلافتِ معاویہ رضی اللہ عنہ و یزید رحمہ اللہ کے مندرجات کے دفاع میں ‘‘سیاہ کرتے رہے اور اس سلسلے میں جس کسی اکابر اہلسنت نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ یا امیر یزید رحمہ اللہ کی جناب میں کوئی ’’گستاخی‘‘ کی اس کو بلا کسی لاگ لپیٹ کر بازاری زبان میں کہا جائے تو’’رگڑ ‘‘ کر رکھ دیا۔ لیکن جب انہیں خیالات کی عکاسی سید مودودی نے خلافت و ملوکیت میں کی تو سید مودودی کی محبت و عقیدت نے صحابہ کی محبت و عقیدت پر غلبہ پالیا اور عامر عثمانی صاحب کو خلافت و ملوکیت میں کچھ خاص قابلِ اعتراض نظر ہی نہیں آیا۔ یہ موضوع بھی حافظ صاحب کی کتاب کے ان موضوعات میں سے ایک ہے جس کو قارئین از حد دلچسپ اور علمی پائیں گے۔ حافظ صلاح الدین یوسف حفظہ اللہ کتاب کا اختتام اپنے ایک مضمون’’خلافت و ملوکیت کے برگ و بار‘‘ کے ساتھ کرتے ہیں جو کہ1968ء میں الاعتصام میں چھپا تھا۔ اس مضمون کا محرّک 31 مئی1968ء میں ہفت روزہ’’آئین‘ ‘میں جناب میاں محمد طفیل کا ایک مضمون بنا جس میں میاں محمد طفیل جیسے سنجیدہ مزاج اہل علم ’’خلافت و ملوکیت ‘‘کے اثرات سے متاثر ہوکر ’’یزید پلید‘‘ کی اصطلاح رقم فرماتے ہیں جبکہ اس سے پہلے جماعتِ اسلامی کے پوری لٹریچر میں یزید کے نام کے ساتھ کبھی’’پلید‘‘ جیسا واہیات لفظ پڑھنے کو نہ ملا۔ یہ برگ و بار ہے اس نفسیاتی اثر کا جو سید مودودی کی ’’خلافت و ملوکیت‘‘ جماعتِ اسلامی کے پڑھے لکھے اور سنجیدہ طبقہ تک پر مرتب کررہی ہے، عوام الناس کا تو شمار ہی کیا۔ اسی مضمون میں حافظ صاحب جماعتِ اسلامی کے اراکین سے اس بات کا گلہ بھی کرتے ہیں کہ وہ یہ تو ضرور کہتے ہیں کہ سید مودودی انسان تھے اور ان سے غلطی کا صدور ممکن ہے لیکن شو مئی قسمت کے جب ان کے سامنے سید مودودی کی کسی غلطی کا ذکر کیا جائے تو جماعت کے ہی بعض اراکین یوں خم ٹھونک کر میدان میں اتر آتے ہیں کہ گویا سید معصوم عن الخطاء ہو اور ان سے کسی غلطی کا صدور امرِ محال ہے۔ گویا کہنےکی حد تک تو سید مودودی سے غلطی کا امکان ہے لیکن جماعتِ اسلامی کے متعصب اراکین کا طرزِ عمل اس کی شہادت دیتا ہے کہ اس ’’امکان‘‘ کا تصور سید مودودی سے کبھی ظہور پذیرنہیں ہوا۔ یہ کیسی دو رخی ہے، ہم سمجھنے سےقاصرہیں ۔ کوئی بتلاؤ کہ ہم بتلائیں کیا۔