کتاب: البیان شمارہ 22 - صفحہ 198
اختلاف رکھنے کی صورت میں متبادل اشکالات کے ضمن میں سید مودودی نے پوچھے ہیں ۔ اس سوالات کے جوابات کے تحت حافظ صاحب نہایت آسان انداز میں اسلامی ریاست کے قواعد اور اصولِ حکمرانی سے متعلق بحث کرتے ہیں اور بتاتےہیں کہ اسلامی کا بنیادی قاعدہ اور اصول اللہ کی حاکمیت ہے جس کا انتظام و انصرام ہر اس شخص پر واجب ہے جس کو کسی طور سے بھی مسلمانوں کا اقتدار نصیب ہوجائے۔ اس سلسلے میں اس کے برسرِ اقتدار آنے کے طریقے سے زیادہ اس بات کی اہمیت ہے کہ اسکا اندازِ حکمرانی آیۃ استخلاف کے تحت ہے یا نہیں ۔ اگر اس کا اندازِ حکمرانی آیۃ استخلاف کے تحت ہے تو فبھا اور اگر اس کے مخالف ہے تو اسلا م کو اس سے کوئی سروکار نہیں کہ اس نے’’لڑ کر بادشاہت ‘‘ حاصل کی ہو یا کسی شوروی حکومت کے ذریعے ’’منصب خلافت‘‘ پر براجمان ہوا ہو۔ اس فصل کےآخر میں حافظ صاحب ’’ہمارا نقطۂ نظر اور اس کے ثمراتِ حسنہ‘‘اور ’’خلافت و ملوکیت اور اس کے نتائج‘‘ کی سرخیاں قائم کرکے فرق واضح کرتے ہیں کہ ان کے نقطۂ نظر کے تحت مسلمانوں کی اسلامی تاریخ ایک شاندار و تابناک دور کے طور پر نظر آتی ہے جہاں اپنے اسلاف اور صحابہ سے مؤدت و محبت اور ان کی اتباع کا جذبہ بیدار ہوتا ہے جبکہ ’’خلافت و ملوکیت‘‘ میں پیش کردہ نتائج کے تحت محسوس ہوتا ہے کہ اسلامی تاریخ میں قابلِ فخر کچھ ہے نہیں اور ساتھ ہی ہمارے اسلاف اور صحابہ اس لائق بھی نظر نہیں آتے کہ انسان کسی معاملے پر ان پر بھروسہ کرسکے چہ جائیکہ ان کی اتباع پر خود کو مجبور کرے۔
باب ششم جو کہ کتاب کا آخری باب ہے اس باب میں حافظ صلاح الدین یوسف ’’غلو عقیدت کی کرشمہ کاریاں ‘‘ کے عنوان کے تحت سید مودودی کے 2 وکلائے صفائی جناب ماہرالقادری، مدیر فاران اور جناب عامر عثمانی مدیر تجلّی دیوبند کی توضیحات کی گو شمالی فرماتے ہیں جو کہ اس الزام کے ساتھ خلافت و ملوکیت کے ناقدین پر برستے ہیں کہ خلافت و ملوکیت پر ناقدین کا نقد دفاعِ صحابہ کے ضمن میں نہیں بلکہ سید مودودی کے ناقدین کی ان سے بے جا بغض کی خامہ فرسائی ہے۔ اس سلسلے میں ماہرالقادری صاحب کی جو لغو بیانیاں ہیں وہ تو پھر بھی کسی طور قابلِ برداشت ہیں کہ سید مودودی کی خلافت وملوکیت سے قبل بھی ماہر القادری صاحب کا ذہن سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے متعلق انہیں خیالات کی آماجگاہ تھا جس کی صدائے باز گشت سید مودودی کی کتاب میں سنائی پڑتی ہے۔ سو ماہر القادری صاحب کی توضیحات تو صرف’’سونے پر سہاگہ‘‘ کے زمرے میں ہیں