کتاب: البیان شمارہ 22 - صفحہ 197
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ پر اعتراضات کی حقیقت کے سلسلے میں ہی آگے جاکر ’’حضرت علی رضی اللہ عنہ پر سب و شتم‘‘کی سرخی قائم کرکے حافظ صاحب سید مودودی کی اس لغو بیانی کا مدلل رد فرماتے ہیں کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے حکم سے خود وہ اور ان کے گورنر محراب و منبر پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر سب و شتم کی بوچھاڑ کیا کرتے تھے۔ اس ضمن میں حافظ صاحب پوری شرح و بسط کے ساتھ بیان کرتے تھے کہ کسی ایک صحیح تاریخی روایت سے یہ ثابت نہیں کیا جاسکتا کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ یا ان کے عمال نے کبھی سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر سب و شتم کیا ہو۔ اس سلسلے میں صحیح ترین روایات میں جو کچھ ملتا ہے تو وہ سّب بمعنی نقد ہے جو کہ طالبینِ قصاصِ عثمان رضی اللہ عنہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر قصاص سے متعلق تساہل برتنے کی بناء پر کرتے تھے۔ اس کو سّب بمعنی گالی قرار دینا سخت ظلم اور مقامِ صحابیت سے بے اعتنائی کا نتیجہ ہے۔ اس ضمن میں ’’استلحاق زیاد‘‘ سے متعلق بھی حافظ صاحب سید مودودی کے اعتراض کا جواب دیتے ہیں کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا یہ فیصلہ کسی ذاتی مفاد کی’’کارستانی‘‘نہیں بلکہ حق پرستی اور حقدار کو اس کا حق دلانے کے اثبات میں تھا جس بابت سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے قابلِ اعتبار شہادتیں مل جانے کے بعد کسی لومۃ لائم کی پرواہ کئے بنا ایک’’ولد الزنا‘‘ کو اپنے خاندان میں شامل کیا۔ یہ کام جو درحقیقت سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی منقبت میں شمار کیا جانا چاہیئے تھا، سید مودودی جیسے اصحابِ تنقید نے اس کو بھی سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ پر نقد کے زمرے میں شامل کردیا۔ اس سلسلے میں حافظ صاحب حواشی میں ان’’جواب الجواب‘‘ پر بھی تبصرہ فرماتے جاتے ہیں جو کہ سید مودودی کے ’’وکیل صفائی‘‘ جناب ملک غلام علی صاحب نے ’’خلافت و ملوکیت‘‘کے دفاع میں رقم کئے ہیں ۔ چونکہ ملک غلام علی صاحب کی حیثیت سید مودودی کے ’’وکیلِ صفائی‘‘کی ہے اور سید مودودی کے نزدیک وکیل صفائی کا بیان لائقِ اعتناء نہیں ہونا چاہیئے کیونکہ’’وہ صرف اس مواد کی طرف مراجعت کرتا ہے جس سے اس کا مقدمہ مضبوط ہو‘‘، سو سید مودودی کے پیش کردہ اپنے اصول کے تحت ملک غلام علی صاحب کی توضیحات کسی صورت لائقِ اعتناء نہیں رہ جاتیں کہ ان کے مفصل رد پر وقت برباد کیا جائے۔ باب پنجم کی فصل دوم میں ’’مولانا مودودی کے 8 سوال اور ان کا جواب‘‘ کی سرخی قائم کرکے حافظ صلاح الدین یوسف حفظہ اللہ ’’خلافت و ملوکیت‘‘کے خاتمۂ کلام پر سید مودودی کی طرف سے معترض حضرات کی جناب میں پیش کئے گئے ان سوالات کا مفصل لیکن مدلل جواب دیتے ہیں جو اپنی کتاب کے مندرجات سے