کتاب: البیان شمارہ 22 - صفحہ 196
باب چہارم کی فصل ششم میں حافظ صلاح الدین یوسف حفظہ اللہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اور سیدنامغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ پر یزیدکی ولایت عہد سے متعلق عائد کردہ مطاعن کا مفصل رد فرماتے ہیں اور اس سلسلے میں علامہ ابن خلدون کا شافی و مدلل مؤقف نقل کرنے کے بعد ٹیپ کا وہ پورا بند نقل فرماتے ہیں جو سید مودودی نے خلافت و ملوکیت میں اس ضمن میں نقل کیا ہے۔ سید مودودی کی پیش کردہ ان تاریخی خرافات پر حافظ صلاح الدین یوسف حواشی میں تعلیقات چڑھا کر ان کا مدلل آپریشن کرتے جاتے ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ دس صفحات پر پھیلی ہوئی اس بحث میں حافظ صاحب نے اس مسئلہ کا اتنا مدلل رد کیا ہے کہ اس کو کتاب کے بہترین مندرجات میں سے شمار کیا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ طبع جدید کے صفحہ نمبر 437سے باب پنجم کا آغاز ہوتا ہے جس میں حافظ صلاح الدین یوسف حفظہ اللہ ’’خلافت و ملوکیت کا فرق اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ پر اعتراضات کی حقیقت‘‘ کا عنوان قائم کرکے اس سلسلے میں سید مودودی کی غلط بیانیوں کا پردہ قارئین کے سامنے چاک کرتے ہیں اور سید مودودی کی جانب سے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ پر عائد اعتراض کا مدلل رد کرتے ہیں کہ’’سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ لوگوں کے بنانے سے خلیفہ نہ بنے تھے بلکہ وہ خلیفہ ہونا چاہتے تھے، سو انہوں نے لڑ کر خلافت حاصل کی اور جب وہ خلیفہ بن گئے تو لوگوں کے لئے بیعت کے سوا چارۂ کار نہ تھا۔‘‘اس سلسلے میں حافظ صاحب بتاتے ہیں کہ اگر فی الواقع سید مودودی کی پیش کردہ یہ تاریخی تصویر درست ہوتی تو پوری مملکتِ اسلامیہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی خلافت پر اس طرح متفق نہ ہوتی جس طور وہ اس سے پہلے تین خلفاء کی خلافت پر ہوئی تھی جبکہ یہی امت آخر وقت تک سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خلافت پر قصاصِ عثمان رضی اللہ عنہ کے ذیل میں متحد و متفق نہ ہوسکی ، سو اگر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی خلافت میں بھی کوئی آئینی سقم ہوتا تو یہ امت سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی طرح ان کی خلافت پر بھی متفق نہ ہوتی۔ ہم عصر امت کا سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی خلافت کے ساتھ یہ طرزِ عمل سید مودودی کے ان تمام دعاوی کی نفی کردیتا ہے جن کے ذریعے سید مودودی سیدنامعاویہ رضی اللہ عنہ کو ایک آئینی خلیفہ کے بجائے ایک مُتغَلِب حکمران باور کروانا چاہتے تھے۔ اس کے بعد ایک ایک کرکے حافظ صاحب سید مودودی کی طرف سے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ پر عائد کردہ تمام اعتراضات کا مدلل و تشفی بخش رد کرتے ہیں ۔