کتاب: البیان شمارہ 11 - صفحہ 58
ایک اہم حدیث کی تشریح اور وضاحت
حافظ محمد سلیم [1]
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: هَلَكْتُ، قَالَ: وَمَا شَأْنُكَ؟ قَالَ: وَقَعْتُ عَلَى امْرَأَتِي فِي رَمَضَانَ، قَالَ: هَلْ تَجِدُ مَا تُعْتِقُ رَقَبَةً قَالَ: لَا، قَالَ: فَهَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تَصُومَ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ قَالَ: لاَ، قَالَ: فَهَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تُطْعِمَ سِتِّينَ مِسْكِينًا قَالَ: لاَ أَجِدُ، فَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَقٍ فِيهِ تَمْرٌ، فَقَالَ: خُذْ هَذَا فَتَصَدَّقْ بِهِ فَقَالَ: أَعَلَى أَفْقَرَ مِنَّا؟ مَا بَيْنَ لاَبَتَيْهَا أَفْقَرُ مِنَّا، ثُمَّ قَالَ: خُذْهُ فَأَطْعِمْهُ أَهْلَكَ[2]
ترجمہ:
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نےبیان کیا کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میں تو ہلاک ہوگیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تیراکیا معاملہ ہے ؟اس نے کہا کہ میں نے رمضان میں اپنی بیوی سے صحبت کرلی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تو ایک غلام آزاد کرسکتا ہے؟ اس نے کہا کہ نہیں ۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :کیا تو دو مہینے کےمتواتر روزے رکھ سکتے ہو ؟ اس نے کہا کہ نہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلاسکتا ہے؟ اس نے کہا نہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
[1] مفتی المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر، کراچی
[2] صحیح بخاری: کتاب کفارات الایمان باب يعطي في الكفارة عشرة مساكين قريبا كان أو بعيدا ،صحیح مسلم : کتاب الصیام باب تغليظ تحريم الجماع في نهار رمضان على الصائم ووجوب الكفارة الكبرى فيه وبيانها وأنها تـجب على الموسر والمعسر وتثبت في ذمة المعسر حتى يستطيع