کتاب: البیان شمارہ 11 - صفحہ 102
آئے۔[1]
حالانکہ سکینت اور وقار کے ساتھ آنے کا حکم ہے۔[2]اس روایت کے مقابلے میں کیا گھٹنے کے بل آنا شرعاً محمود ہے؟؟
اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا کہ قرآن کی تعلیم تمہارے لئے سرخ اونٹوں سے بہتر ہے۔[3]اب کیا سرخ اونٹ رکھنا شرعاً محمود ہیں ؟
اس حوالے سے مزید مثالیں بھی دی جاسکتی ہیں ،فی الحال انہیں پر اکتفاء کیا جاتاہے۔
شوال کےچھ روزے اور صوم الدھر کے مفہوم کی وضاحت :
اعتراض : ان روزوں کےلئے صوم الدھرکا لفظ استعمال ہوا ہے ۔ جس سے مفتی صاحب نے اس کی کراھیت کا استدلال کیا ہے۔[4]
جواب :
اولاً: قاعدہ ’’الحدیث یفسر بعضہ بعضاً ‘‘یعنی ایک حدیث دوسری حدیث کی وضاحت کرتی ہے۔اگر ایک روایت میں ’’الدھر ‘‘کے الفاظ ہیں تو دوسری میں ’’ السنۃ ‘‘کے الفاظ بھی ہیں ۔جس سے مفہوم واضح ہوجاتا ہے ۔
ثانیاً:صوم الدھر کو اصل معنی میں رکھا جائے تو بھی کوئی حرج نہیں کیونکہ جب حدیث ثابت ہوجائے تو ہمارا کام ماننا ہے نہ کہ فرار کی راہیں ڈھونڈنا۔
[1] صحیح بخاری:کتاب الاذان، باب الاستھام فی الاذان ،صحیح مسلم :کتاب الصلوۃ باب تسویۃ الصفوف
[2] صحیح بخاری: کتاب الاذان باب لا يسعى إلى الصلاة وليأت بالسكينة والوقارصحیح مسلم:کتاب المساجد و مواضع الصلوۃ ،باب استحباب اتیان الصلوۃ بوقار و سکینۃ والنھی عن اتیانھا سعیاً
[3] صحیح بخاری:کتاب الجہاد والسیرباب دعاء النبي صلى الله عليه وسلم الناس إلى الإسلام والنبوة وأن لا يتخذ بعضهم بعضا أربابا من دون الله ،صحیح مسلم: كتاب فضائل الصحابة رضي الله تعالى عنهم، باب من فضائل علي بن أبي طالب رضي الله عنه
[4] احسن المقال:28 ،29