کتاب: البیان اسلامی ثقافت نمبر - صفحہ 451
(2) اسلامی تعلیمات سے لا علمی 3) مغربی تہذیب کے مقابلے میں اسلامی تہذیب سے متعلق احساسِ محرومی کا تصّور میں اس ضمن میں چند گزارِشات کرنا چاہتا ہوں (1) اسلامی تہذیب و ثقافت کی جان عربی زبان ہے ۔ اس لئےکہ اللہ تعالیٰ کا قرآن اور محمد رسول اللہ صلی علیہ وسلم کا فرمان عربی زبان میں ہے۔ لھٰذا کائنات کے اندر عالم اسلام کی سب سے اہم ضرورت عربی زبان کا جانناہے۔ اور یہ زبان عالم اسلام کے اتحاد کی بھی ضامن ہے۔ مگر حیرت کی بات ہے کہ خود اہلِ عرب انگریزی زبان کو ضرورت سے زیادہ اہمیت دے رہے ہیں۔ اس لئے ضرورت ہے ہمیں ایک عالمی ، تعلیمی ۔ معاشی نظام کی جو تمام عالم اسلام میں مشترک ہو۔اور اسی طرح ہی ایک عالمی نظام حکومت ہونا چاہیے اوروہ نظام خلافت شورائیت کے تحت وجود میں لایا جائے۔ مگر افسوس کہ ہم تو جمہوری عمل کو ہی کافی سمجھ بیٹھےیہ دھوکہ ہےاس فرسودہ نظام حکومت سے کبھی اسلام غالب نہیں ہوسکتا عالمی سطح پر تو درکنار کسی ایک ملک میں بھی اس قسم کے طرز حکومت سے مسلمانوں کی تقدیر نہیں بدل سکتی یہ طرز حکومت غلبہ اسلام کے معاملے میں مسلمانوں کے مقدّر میں روڑا ہے۔ کیونکہ اسلامی ثقافت کے اندر ایک وقت میں ایک ملک کا ایک ہی حکمران ہوسکتا ہےاور وہ تا حیات ہوتا ہے جب تک کہ وہ کفر کا مرتکب نہ ہو جائےیا وفات نہ پاجائے یا ذمہ داری ادا کرنے کے قابل نہ رہے ۔ جب کہ جمہوری طرز حکومت میں تو سینکڑوں پارٹیاں حکمرانی کی امیدوار ہونے کے ناطے رجسٹرڈ ہوسکتی ہیں ایسے میں تو خود ملک کے ہی چیتھڑے اڑ سکتے ہیں اور ملک میں طوائف الملو کی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے۔ جس سے خود ملک بھی صفحہ ہستی سے مٹ سکتا ہے ۔ پاکستان کے اندر کلچر ڈیپارٹمنٹ کس قسم کے کلچر کو فروغ دے رہا ہے ہر پاکستانی اس کا غور سے مطالعہ کر سکتا ہے۔ میڈیا جس ثقافت کا پر چار کار رہا ہے اس کو روکنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ TV کو ہی گھر سے باہر نکال دیں نہیں توبیوی گھر سے باہر ہوگی۔ شاید آپ کو یہ بات مذاق معلوم ہو ۔ مگر جب آپ غیر مسلموں کے ہاں طلاق کی شرح کا موازنہ اپنے ملک سے کریں گے تو آپ کا اندازہ ہوگا کہ عائلی