کتاب: البیان اسلامی ثقافت نمبر - صفحہ 440
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو دو زرد رنگ کے کپڑوں میں ملبوس دیکھا تو فرمایا : ’’اِنَّ ھَذِہِ مِنْ ثِیَابِ الْکُفَّارِ فَلاَ تَلْبَسْھَا‘‘’’بےشک یہ کفار کا لباس ہے تم اسے مت پہنو۔‘‘ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ جو لباس کفار کے خصائص میں سے ہو اس کا پہننا جائز نہیں ۔ (آج کے دور میں جس لباس کو امتیازی حیثیت حاصل ہے اور اس کا شمار کفار کے خصائص میں ہوتا ہے وہ پتلون ہے۔ مسلم ممالک میں اس کا پہننا جائز نہیں ۔ اگرچہ یہ مغرب زدہ لوگوں میں بہت مقبول ہے اور ایسے لوگوں کی مسلم ممالک میں کثرت ہے مگر معیار تو دین دار اور متقی لوگ ہوں گے۔ اور ہم دیکھتے ہیں کہ وہ لوگ تو پتلون وغیرہ نہیں پہنتے۔ ویسے بھی مروجہ پتلون میں انسانی وقار برقرار نہیں رہتا کیونکہ اس میں مکمل ستر پوشی نہیں ہوتی۔ اسی طرح کچھ چیزیں کفار کے مختلف گروہوں میں سے ہر گروہ کی الگ سے علامت سمجھی جاتی ہیں ۔ جیسے یہودیوں کا ہیٹ ہے اور عیسائیوں کی صلیب وغیرہ۔ واللہ أعلم) دوسری قسم … مشرکین مشرکین سے عبادات، عید و تہوار اور افعال و اعمال میں مشابہت ممنوع قرار دی گئی ہے۔ اسی طرح سیٹیاں بجانا، تالیاں پیٹنا یا اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سے کسی کو دنیا میں اپنے لیے اللہ کے ہاں سفارشی یا وسیلہ سمجھنا، قبروں پر نذر و نیاز اتارنا، چڑھاوے چڑھانا، قربانی وغیرہ پیش کرنا اور بعض دوسرے مشرکانہ افعال ہیں جن میں مشرکوں کی مشابہت سے منع کیا گیا ہے۔ مشرکین کا ایک طریقہ یہ تھا کہ حج میں میدان عرفات سے سورج غروب ہونے سے پہلے ہی لوٹ آتے۔ ایسا کرنا بھی ان سے مشابہت ہے۔ سلف صالحین مشرکوں کے اعمال و خصائص کو ناپسند کرتے تھے۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کا قول ہے : ’’ مَنْ بَنَی بِبِلاَدِ الْمُشْرِکِینَ وَصَنَعَ نَیرُوزَھُمْ وَمَھرَجَانَھُمْ حَتَّی یَمُوتَ حُشِرَ مَعَھُمْ یَوَمَ الْقِیَامَۃٍ‘‘[1] [1] سنن البیھقی 23/9