کتاب: البیان اسلامی ثقافت نمبر - صفحہ 412
بدعقیدگی یا اسٹائل بکثرت یہ دیکھا گیا ہے کہ نئی جوان نسل میں بعض چیزیں بطور اسٹائل ہی کے کہہ لیں کہ ان میں مروّج ہیں حالانکہ وہ عقیدہ کے لئے انتہائی خطرناک ہیں۔ مثلاً مغرب کی نقال نئی نسل کو دیکھا گیا ہے کہ باہم ایک دوسرے سےتعارف کرواتے ہوئے، ایک سوال یہ بھی ہوتا ہے آپ کا اسٹار (ستارہ ) کیا ہے؟ جس طرح کفار ستاروں کے برجوں پر یقین رکھتے ہیں،ستاروں کی بنیاد پر لوگوں کی تقدیر کا حال پوچھا اور بتایا جاتا ہے۔ بالکل یہی حال آج کے مسلم نوجوان کا ہے۔کہ اس نے بدعقیدگی کو اپنا مروج انداز بنالیا ہے۔ آج کل کے نوجوانوں کے ہاتھوں میں بکثرت کوئی نہ کوئی دھاگہ ،کڑا یا اس قسم کا کچھ ضرور ہوتا ہے۔ بعض لوگوں نے یہ خاص منت یا بیماری وغیرہ کےسبب سے پہنا ہوتا ہے جوکہ صریح شرک ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کے ہاتھ میں کڑا پہنا ہوا دیکھا تو فوراً اسے اتروایا اور کہا کہ اس سے تو مزید بیماری میں اضافہ ہوگا اور اگر اسی حال میں تیری موت واقع ہوگئی تو کبھی کامیاب نہیں ہوگا۔[1]بعض نے یہ بطور تزین کے پہنا ہوتا ہےجوکہ عورتوں کے تزین کے مشابہ ہونے کی وجہ سے ناجائز ہے۔ بعض نے یہ غیروں کی نقالی کرتے ہوئے اسے پہنا ہوتا ہے،یہ اس لئے ناجائز ہے کہ اس میں غیر مسلموں کی تشبیہ ہے۔اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ جس نےکسی قوم کی مشابہت اختیار کی وہ انہیں میں سے ہے۔[2] میڈیا اور خراب لٹریچر تفریح حاصل کرنے کے لئے نوجوان ساتھی میڈیا کا رخ کرتے ہیں اور انٹرٹینمنٹ کے نام پر جس طرح سے مخرب اخلاق نشریات دکھا ئی جاتی ہیں اوربے حیائی اور عریانیت کا بازار گرم کیا جاتا
[1] سنن ابن ماجۃ : کتاب الطب، باب تعلیق التمائم ، صحیح ابن حبان :6085، کتاب الرقیٰ والتمائم، علامہ البانی رحمہ اللہ نے اس روایت کو ضعیف قرار دیا ہے،نیز امام حاکم کی تصحیح،صاحب مجمع الزوائدبوصیری کی تحسین اور محمد بن عبدالوھاب کے سند لابأس بہ کہنا ان سب کا جائزہ بھی لیا ہے۔ دیکھئے: الضعیفۃ : 1029ہرحال اس مضمون کی دیگر روایات سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ تعویذ لٹکانا شرک ہے اگر وہ قرآنی نہ ہو۔اور قرآنی تعویذ کا لٹکانا بھی جائز نہیں۔ [2] سنن ابی داؤد: کتاب اللباس ،باب فی لبس الشھرۃ ، مسند احمد: 2/50