کتاب: البیان اسلامی ثقافت نمبر - صفحہ 376
’’ اَلْمُسْلِمُ أخُو الْمُسْلِمِ لاَ یَظْلِمه وَلاَ یَخْذُله وَلاَ یُحَقِّرُہ‘‘[1] ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے،اس پر کوئی ظلم وزیادتی نہ کرے۔ اس کو بے یار ومددگار نہ چھوڑے اور اس کو حقیر نہ جانے اورنہ اس کے ساتھ حقارت کابرتاؤ نہ کرے۔ پھر آپ نے فرمایا: آدمی کے برا ہونے کے لیے اتنا ہی کافی ہے، کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر سمجھے اور اس کے ساتھ حقارت سے پیش آئے۔ تکلیف دہ مزاح کی ممانعت کی دلیل مندرجہ ذیل حدیث ہے: عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اپنے بھائی سے جھگڑا نہ کرو اور اس سے مذاق نہ کرو اور اس سے تم ایسا وعدہ نہ کرو جس کی وعدہ خلافی کرو۔اس حدیث میں دیگر تکلیف دہ اعمال (جھگڑا، وعدہ خلافی) کے ساتھ اس مزاح کی بھی ممانعت کی گئی ہے؛ جو اذیّت ناک اور ناگواری کا باعث ہو۔ (4)مسلمان بھائی کو بطور مذاق ڈرائے یا دھمکائے نہیں امام ابوداؤ د نے سنن میں ابن ابی لیلیٰ سے روایت نقل کی کہ ’’ ہمیں اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی سفر میں تھے ان میں سے ایک شخص سوگیا تو ایک اور فرد نے اس کے پاس موجودرسی سے اسے پکڑا وہ گھبراکر اٹھ بیٹھا اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کسی مسلمان کیلئے جائز نہیں کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو ڈرائے ‘‘۔[2] ایک اور روایت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا :’’ تم میں سے کوئی بھی اپنے بھائی کا سامان کھیل کود میں یا سنجیدگی میں نہ لے ‘‘۔ [3] (5) مذاق میں حد سے زیادہ انہماک نہ ہو مذاق میں حد سے زیادہ منہمک ہونا ، طول دینا، اور مبالغہ آمیزی کرنا بھی جائز نہیں ہے ۔ مذاق کا [1] صحیح مسلم: كتاب البر و الصلة,باب تحريم الظلم... [2] رواه ابوداؤد :كتاب الأدب , باب من يأخذ الشيء علي المزاح [3] رواه ابوداؤد :كتاب الأدب ,باب لا يأخذن أحدكم متاع أخيه....