کتاب: البیان اسلامی ثقافت نمبر - صفحہ 368
تفریح کا تصور ہر زمانے اورہر قوم میں پایا جاتا ہے البتہ ہر قوم اپنی تہذیب وتمدن کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے اس کا اہتمام کرتی رہی ہے ، مثلا رقص ،ڈرامے،موسیقی،گانے اور مختلف طرح کے کھیل کو دوغیرہ۔ اور کچھ اقوام میں تو تفریح کے ان مظاہر کو مذہبی حیثیت بھی حاصل ہے اور کچھ اقوام میں اس کا تعلق صرف ثقافت سے ہے۔ لیکن عصر حاضر میں نت نئی ایجادات نے تفریح کا تصور بالکل ہی تبدیل کر دیا ہے ۔عمومی طور پر زمانہ ماضی میں تفریح کا تصور جسمانی تربیت و نشوونما کے ساتھ وابستہ تھا اور بغور جائزہ لیا جائے تو زمانہ ماضی میں تفریح و کھیل کے جتنے بھی مظاھر تھے ان سب میں یہی پہلو اجاگر تھا،یہاں تک کہ گھریلو خواتین کے کھیل بھی اسی نوعیت سے تعلق رکھتے تھے اس کے بالکل برخلاف جدید ایجادات جیسے ڈش،کیبل،ٹیلی ویژن ، کمپیوٹر، انٹرنیٹ اور اسمارٹ موبائل فونز جن کو ذرائع ابلاغ بھی کہا جاتا ہےنے تفریح کے تصور کو بہت وسیع بنا دیا ہے اور اس وسعت نے سب سے پہلے سابقہ تصور تفریح میں موجود اجتماعیت کو ختم کر دیا اور انفرادیت کو رائج کیا ۔ اور المیہ تو یہ ہوا کہ ان وسائل کے ذریعہ پیش کیے جانے والے پروگرام جس میں فلمیں ، کارٹونز، کھیل، گانے، فیشن اور ٹی وی شو وغیرہ کو بھی تفریح کا نام دے دیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس وقت تہذیبی جنگ میدان میں یا اسلحے کے ساتھ نہیں لڑی جا رہی بلکہ عقیدہ اور اخلاق کے میدان میں لڑی جارہی ہے اور تفریح کے نام پرغیر اسلامی تہذیب و ثقافت کو فروغ دیا جارہا ہے۔ اسلام صرف عقائد کے باب میں میانہ روی یا اعتدال پرستی کا تعلق تمام شعبہ حیات سے ہے اور اس کا یہی خاصہ بھی ہے، اور اس کی دوسری سب سے بڑی خوبی اس کے کسی بھی ضابطے کا تعلق غیر فطری یا غیر عقلی تصورات سے نہیں، یعنی کہیں بھی اس نے انسان کی جائز ضروریات پر کوئی قدغن نہیں لگائی البتہ کچھ اصول و ضوابط کے ذریعے اس کی حد بندیاں ضرور کر دیں تاکہ فساد بپا نہ ہو۔