کتاب: البیان اسلامی ثقافت نمبر - صفحہ 342
کے اندھے پن پر مبنی، عقل سے ماوراء ایسے مظاہر دیکھنے کو ملیں گے کہ بالفرض بغیر کسی وجہ کے اگر وہ گو کے بل میں داخل ہو جائیں گے تو میری امت کے بھٹکے ہوئے لوگ بغیر سوچے سمجھے یہ عمل بھی کر بیٹھیں گے جیسا کہ حدیث میں ہے کہ: "لَتَتَّبِعُنَّ سُنَنَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بَاعًا بِبَاعٍ، وَذِرَاعًا بِذِرَاعٍ، وَشِبْرًا بِشِبْرٍ، حَتَّى لَوْ دَخَلُوا فِي جُحْرِ ضَبٍّ لَدَخَلْتُمْ فِيهِ» ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ الْيَهُودُ، وَالنَّصَارَى؟ قَالَ: «فَمَنْ إِذًا"[1] تم لوگ ضرور اپنے سے پہلے امتوں کے نقش قدم پر چلو گے (یہاں تک کہ) اگر وہ دو ہاتھ چلیں گے تو تم بھی دو ہاتھ چلو گے وہ ایک ہاتھ چلیں گے تو تم ایک ہاتھ چلو گے وہ ایک بالشت چلیں گے تو تم بھی ایک بالشت چلو گے حتی کہ اگر وہ گوہ کے سوراخ میں داخل ہوں گے تو تم بھی داخل ہو گے صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ پہلی امتوں سے آپ کی مراد یہود و نصاری ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تو اور کون؟ حدیث کے مفہوم کے مطابق کفار کی تقلید اور اندھا دھند بغیر سوچی سمجھی کی جانے والی نقالی میں اسلام کا نام لینے والے دعویدار مسلمان شرم وحیا کے ساتھ اس بات کو بھی نظر انداز کر دیں گے کہ یہ چیز عقل کے خلاف ہے بلکہ انسانیت کے لیے مضر اور ناقابل برداشت ہے اور اس پرمستزاد یہ کہ عین شیطانیت، حیوانیت اور وحشی و جنسی دردنگی کی علامت ہے۔ دوسرا مفسد: اس تہوار کے منانے کا دوسرا نقصان یہ ہے کہ جن برائیوں اور فحش حرکات کا ارتکاب اس میں کیا جاتا ہے وہ گناہ کبیرہ اور حد سے تجاوز کرتی ہوئی ایک خطرناک نشانی ہونے کے ساتھ مہلک اثرات سے بھرپور ہمارے اس اسلامی معاشرہ کے لیے زہر قاتل بھی ہے کہ جس میں اجتماعی طور پر اعلانیہ و فخریہ انداز میں ایک دوسرے کو ترغیب دے کر ساحل سمندر اور دوسرے تفریحی مقامات پر ان برائیوں و منکرات کے لیے بلایا جاتا ہے اور ایسی رسومات و تہوار میں تعاون کرنا یا شرکت کرنا اور کسی بھی طرح سے اس کا حصہ بننا حرام ہے۔ [1] سنن ابن ماجه کتاب الفتن