کتاب: البیان اسلامی ثقافت نمبر - صفحہ 313
بڑھنے کی کوشش کی جبکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : { يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تُـقَدِّمُوْا بَيْنَ يَدَيِ اللہِ وَرَسُوْلِہٖ وَاتَّقُوا اللہَ۝۰ۭ اِنَّ اللہَ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ}[الحجرات: 1] ’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اللہ اور اس کے رسول سے آگے نہ بڑھو اور اللہ سے ڈرتے رہو (کیونکہ) وہ (سب کچھ) سننے والا (اور) جاننے والا ہے۔‘‘ تمام آراء کو کتاب وسنت پر پیش کیا جائے گا جوان کے موافق ہوگی لے لیا جائے گا جو مخالف ہوگی اسے رد کردیا جائے گا ۔ امام ابو الزناد رحمہ اللہ فرماتے ہیں : " إن السنن لا تخاصم ، ولا ينبغي لها أن تتبع بالرأي والتفكير ، ولو فعل الناس ذلك لم يمض يوم إلا انتقلوا من دين إلى دين ، ولكنه ينبغي للسنن أن تلزم ويتمسك بها على ما وافق الرأي أو خالفه".[1] شرعی ثوابت وسنتوں سے متعلق تنقید وتردید کی کوئی گنجائش نہیں ۔اور یہ کسی طرح بھی روا نہیں کہ رائے محض اور پراگندہ فکر سے ان کی بیخ کنی کی جائے، اگر لوگوں کو اس کی آزادی دے دی گئی تو ایک دن بھی ایسا نہیں گزرے گا کہ لوگ ایک دین سے دوسرے دین میں منتقل ہوجائیں گے ، مگر شرعی سنن کے حوالے سے ضروری یہ ہے کہ ان کی پیروی کی جائے اور ان پر عمل کیا جائے چاہے وہ رائے کے موافق ہوں یا مخالف ‘‘۔ اس لئے اسلام میں اظہار رائے کو کتاب وسنت اوراجماع امت کے ماتحت کیا گیا ہے کوئی بھی انسان اپنی رائے کا اظہار کرتے وقت کسی مصلحت کو بنیاد بنا کر ایسے نتائج لاتا ہے جو کتاب وسنت کے خلاف ہوں تو گویا اس نے شریعت اسلامی سے ناگواری کا اظہار کیا اور اسے خوش دلی سے قبول نہیں کیا ۔[2] اس لئے اہل علم نے یہ قواعد وضع کئے ہیں کہ : ( لا اجتهاد في موارد النص )[3] نصِ شرعی کی [1] الفقيه والمتفقه ، للخطيب البغدادي 1/392 [2] بيان الدليل على تحريم التحليل ، ص 250 [3] شرح القواعد الفقهية ، للزرقا ص 147