کتاب: البیان اسلامی ثقافت نمبر - صفحہ 223
فون کرنے سے پہلے نمبر کی تحقیق کرلینی چاہیے: فون کرنے سے پہلے نمبرکی تصدیق کر لیناچاہیے کہ واقعی یہ فلاں شخص کا نمبر ہے ، تاکہ ایسا نہ ہو کہ کسی دوسرے کا نمبر ڈائل ہوجائے اور آپ اُس کے لیے ناگواری کا باعث بن جائیں، (لا ضرر ولا ضرار) کی حدیث پیش نظر رہنی چاہیےاگر کبھی غیر شعوری طور پر ایسا ہوجاتا ہے تو نرم لہجے میں ان سے معذرت کرلی جائے کہ ’’معاف کیجئے گا ، غلطی سے آپ کا نمبر ڈائل ہو گیا ‘‘۔ فون کرتے وقت شرعی الفاظ کا استعمال کیا جائے: مثلاً جب بات کرنا شروع کریں تو کہیں السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ، اسی طرح فون اٹھانے والا بھی السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ کے ذریعہ گفتگو کی ابتداء کرے کیونکہ سلام میں پہل کرنا بہتر ہے ۔ بالعموم لوگ فون کرتے یا اٹھاتے ہوئے ’’ہیلو ‘‘ ’’ہیلو‘‘کہتے ہیں‘یہ اسلامی آداب کے منافی ہے ۔ اسلام نے ہمیں یہ تعلیم دی ہے کہ جب ہم کسی سے ملیں تو السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کہیں، اس کا اطلاق بالمشافہ ملاقات پر بھی ہوگا ، خط وکتابت پربھی ہوگا اور فون پر بھی ہوگا ۔ پھر’’ ہیلو‘‘ کہنے کی وجہ سے جہاں ایک طرف غیرمسلموں کی مشابہت لاز م آتی ہے، وہیں ایک آدمی بے پناہ اجروثواب سے محروم بھی ہو جاتا ہے ، امام بخاری رحمہ اللہ نے الادب المفرد میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بیان کیا ہے کہ ایک آدمی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پا س سے گذرا تو اس نے کہا السلا م علیکم آپ نے فرمایا : اِسے دس نیکیاں ملیں ، دوسرا آدمی گذرا تو کہا : السلام علیکم ورحمۃ اللہ آپ نے فرمایا : اِسے بیس نیکیاں ملیں، تیسرا آدمی گذرا تو اس نے کہا : السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، آپ نے فرمایا : اِسے تیس نیکیاں ملیں ۔[1] اس حدیث کو پیش نظر رکھتے ہوئے اگر ہم فون پر اسلامی طریقہ کو اپنائیں اور السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کہیں توہم صرف فون کرنے پرتیس نیکیوں کے حقدار ٹھہرتے ہیں۔ [1] حسنہ الالبانی فی تخریج مشکاۃ المصابیح 4566