کتاب: البیان اسلامی ثقافت نمبر - صفحہ 168
"واللائی لم یحضن:وقال قتادۃ : اللائی یئسن الکبار واللائی لم یحضن الصغار"[1] ’’وہ عورتیں جو ناامید ہو چکی ہیں وہ بڑی عمر کی بوڑھی عورتیں ہیں اور جن عورتوں کو حیض نہیں آیا ہے وہ چھوٹی کم سن لڑکیاں ہیں‘‘ معلوم ہوا کہ شیعہ عالم کے نزدیک بھی چھوٹی لڑکی (کم سن) کا نکاح جائز ہے۔ دوسری دلیل [وَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تُقْسِطُوْا فِي الْيَتٰمٰى فَانْكِحُوْا مَا طَابَ لَكُمْ مِّنَ النِّسَاۗءِ][النساء: 3] ترجمہ: ’’اگر تمہیں ڈر ہو کہ یتیم لڑکیوں سے نکاح کر کے تم انصاف نہ رکھ سکو گے توان عورتوں میں سے جو بھی تمہیں اچھی لگیں تم ان سے نکاح کر لو‘‘ سورۃ النساء میں ہی دوسری جگہ پر ہے: [وَيَسْتَفْتُوْنَكَ فِي النِّسَاۗءِ ۭ قُلِ اللّٰهُ يُفْتِيْكُمْ فِيْهِنَّ ۙ وَمَا يُتْلٰي عَلَيْكُمْ فِي الْكِتٰبِ فِيْ يَتٰمَي النِّسَاۗءِ الّٰتِيْ لَا تُؤْتُوْنَھُنَّ مَا كُتِبَ لَھُنَّ وَتَرْغَبُوْنَ اَنْ تَنْكِحُوْھُنَّ][النساء: 127] ترجمہ: ’’وہ آپ سے عورتوں کے بارے حکم دریافت کرتے ہیں ، آپ کہہ دیجیئےکہ خود اللہ ان کے بارے میں حکم دے رہا ہے اور قرآن کی وہ آیتیں جو تم پر ان یتیم لڑکیوں کے بارے میں پڑھی جاتی ہیں جنہیں ان کا مقرر حق مہر تم نہیں دیتے اور ان کو اپنے نکاح میں لانے کی رغبت رکھتے ہو ‘‘ مذکورہ بالا دونوں آیات یتیم لڑکی کے نکاح کے جواز پر دلالت کرتی ہیں جو ابھی بالغ نہیں ہوئی ہو۔ دلیل وہ حدیث ہے جو صحیح بخاری میں موجود ہے۔ عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا کہ اے ام المؤمنین ! [وَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تُقْسِطُوْا فِي الْيَتٰمٰى ] سے [ مَا مَلَكَتْ اَيْمَانُكُمْ ] تک کیا بیان ہوا ہے؟ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا کہ اے بھانجے! اس آیت میں اس یتیم لڑکی کا ذکر ہے جو اپنے ولی کے زیرِ پرورش ہو اور ولی لڑکی کی خوبصورتی اور مال کی وجہ سے اس کی طرف رغبت رکھتا ہو اور اس کا [1] التبیان: 10/34