کتاب: سہ ماہی مجلہ البیان شمارہ نمبر 18 - صفحہ 98
اس لیے اگر دنیا میں کوئی غم ، کوئی پریشانی یا تکلیف آئے تو صبر کریں۔اور ان غموں کو اپنے لیے رحمت سمجھیں۔ ساتواں علاج:موت کو یاد رکھنا انسان جب اپنی موت کو ہر وقت یاد رکھتا ہےتو بہت سارے غموں اور پریشانیوں سے اپنے آپ کو بچا لیتا ہے،جس طرح صحیح بخاری میںرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ لذات کو ختم کرنے والی یعنی موت کو زیادہ سے زیادہ یاد کیا کرو‘‘۔ جب انسان اس بات کو اپنے دل میں جگہ دے کہ موت کسی وقت بھی اس کے تمام منصوبوں کو درہم برہم کر سکتی ہے، تو بہت سی پریشانیاں اور غم اپنے آپ ختم ہو جاتے ہیں۔قرآن کریم میں بھی اللہ تعالیٰ نے کئی ایک مقامات پر اس حضرت انسان کو موت کی یاد دہانی کرائی ہے۔ ؎ آگاہ اپنی موت سے کوئی بشر نہیں سامان سو برس کا ہے پل کی خبر نہیں۔ آٹھواں علاج:اللہ تعالیٰ سے مسلسل دعاکرتےرہنا غم ختم کرنے اور پریشانی دور کرنے کا ایک بہترین علاج دعا ہے ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ ہر وقت دعا کرتا رہے کہ پرور دگار اسے ہر غم ،پریشانی اور مصیبت سے بچائے رکھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جیسی ہستی بھی کثرت سے پریشانیوں ،غموں اور مصیبتوں سے بچنے کے لیے دعا کیا کرتے تھے۔ پیارے پیغمبر کے خادم انس رضی اللہ عنہ خبر دیتے ہیں کہ میں ایک دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھا، جب کسی جگہ پر ٹھہرتے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کثرت سے دعا کرتے ہوئے دیکھا، وہ دعا یہ تھی،’اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ الْهَمِّ وَالْحَزَنِ وَالْعَجْزِ وَالْكَسَلِ وَالْبُخْلِ وَالْجُبْنِ وَضَلَعِ الدَّيْنِ وَغَلَبَةِ الرِّجَالِ‘ ’’اے اللہ میں فکر،عاجزی اورسستی،بخیلی اور بزدلی،قرض داری کے بوجھ اور ظالموں کے غلبے سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔‘‘