کتاب: سہ ماہی مجلہ البیان شمارہ نمبر 18 - صفحہ 96
ہانپ رہا ہے اور پیاس کی وجہ سے کیچڑ چاٹ رہا ہے، اس نے کہا کہ اس کو بھی ویسی ہی پیاس لگی ہوگی جیسی مجھے لگی تھی،چنانچہ اس نے اپنا موزہ پانی سے بھرا پھر اس کو منہ سے پکڑا پھر اوپر چڑھا اور کتے کو پانی پلایا اللہ نے اس کی نیکی قبول کی، اور اس کو بخش دیا، لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا چوپائے میں بھی ہمارے لئے اجر ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر تر جگر والے( یعنی جاندار) میں ثواب ہے۔‘‘ جبکہ بعض اوقات ایک معمولی سا گناہ بھی کسی انسان کو رحمت الہٰی سے دور کردیتا ہے۔سیدہ اسما بنت ابی بکر رضی اللہ عنھماسے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسوف کی نماز پڑھی، اور فرمایا :’’ مجھ سے دوزخ قریب ہوگئی یہاں تک کہ میں نے کہا کہ اے پروردگار!کیا میں بھی ان دوزخیوں کے ساتھ ہوں گا!اتنے میں میری نظر ایک عورت پر پڑی، میں نے خیال کیا کہ اس کو ایک بلی نوچ رہی ہے، آپ نے پوچھا کہ یہ کیا بات ہے؟ تو فرشتوں نے کہا کہ اس عورت نے بلی کوقیدکررکھاتھا(نہ اپنے گھر کھلایانہ آزاد کیانہ وہ خود کچھ کھالے) یہاں تک کہ بھوک کے سبب سے مر گئی۔‘‘{ آج دنیا کی زندگی میں شاید ہمیں نیکیوں کی قدرو قیمت کا احساس نہیں لیکن کل قیامت کے دن یہ ہی وہ چھوٹی چھوٹی نیکیاں ہوں گی جو ہمارے نامہ اعمال کو بھر دیں گی اس لیے نیک اعمال کرکے اس دنیا کو بھی اچھا بنائیں اور اپنی آخرت کو بھی سنواریں تاکہ اللہ تعالیٰ کی رضا مندی اور خوشنودی حاصل ہو۔آئیے چند ایک نیکیوں کی طرف نظر ڈالیں۔ (1)اچھی نیت کرنا (2)کسی مسلمان کی مدد کرنا (3)کسی مسلمان کے عیب کے پردہ پوشی کرنا (4)نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا (5)سوموار اور جمعرات کا روزہ رکھنا (6)نماز جنازہ پڑھنا (7)دینی علم سیکھنا (8) سلام کرنا، سلام کا جواب دینا (9)پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک کرنا (10)صلح کرادینا (11)جماعت میں صف کے خلا کو پر کردینا (12)صلہ رحمی کرنا (13)تلاوت قرآن کریم (14)زبان کو قابو میں رکھنا (15)فرض نماز کے بعد اذکار (16)جمعہ کے دن جلدی مسجد جانا (17)وضو کے بعد دعا پڑہنا (18)پہلی صف میں دائیں طرف نماز پڑہنا (19)اللہ سے دعا کرنا (20)ذکر اللہ کرتے