کتاب: سہ ماہی مجلہ البیان شمارہ نمبر 18 - صفحہ 93
اللہ کے حکم سے ان کو نگل کر سمندر کی تہہ میں جا بیٹھتی ہے،رات کا اندھیرا، مچھلی کے پیٹ کا اندھیرا،اور سمندر کی تہہ کا اندھیرا۔ فرمان باری تعالیٰ ہے: [فَنَادٰي فِي الظُّلُمٰتِ اَنْ لَّآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنْتَ سُبْحٰــنَكَ ڰ اِنِّىْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِيْنَ ][الانبیاء:87] ’’بالا آخر وہ اندھیروں کے اندر سے پکار اٹھا کہ الٰہی تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو پاک ہے بیشک میں ظالموں میں ہوگیا‘‘۔ پھر فرمایا:[فَاسْتَجَبْنا لَهٗ ۙ وَنَجَّيْنٰهُ مِنَ الْغَمِّ] ’’ تو ہم نے اس کی پکار سن لی اور اسے غم سے نجات دے دی‘‘۔ پھر فرماما:[وَكَذٰلِكَ نُـــــْۨـجِي الْمُؤْمِنِيْنَ ][ الانبیاء:88] ’’اور ہم ایمان والوں کو اسی طرح بچا لیا کرتے ہیں ‘‘۔نیز فرمایا: [فَلَوْلَآ اَنَّهٗ كَانَ مِنَ الْمُسَبِّحِيْنَ) (لَـلَبِثَ فِيْ بَطْنِهٖٓ اِلٰى يَوْمِ يُبْعَثُوْنَ][ الصافات:143، 144] ’’پس اگر یہ پاکی بیان کرنے والوں میں سے نہ ہوتے۔ تو لوگوں کے اٹھائے جانے کے دن تک اس کے پیٹ میں ہی رہتے۔‘‘ سیدناابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ دو کلمے ایسے ہیں جو زبان پر ہلکے ہیں لیکن میزان میں وزنی ہیں اور اللہ کو محبوب ہیں۔‘‘ ’سُبْحَانَ اللہ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللہ الْعَظِيمِ‘ سیدناابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’سُبْحَانَ اللہُ وَالْحَمْدُ للہُ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللہُ وَاللہُ أَکْبَرُ‘ کہنا میرے نزدیک ہر اس چیز سے محبوب ہے جس پر سورج طلوع ہوتا ہے۔