کتاب: سہ ماہی مجلہ البیان شمارہ نمبر 18 - صفحہ 86
بڑے لشکر بھی پاؤں تک روند دیے گئے‘‘ ۔ ان تمام آلام ومصائب سے نکلنے کے عموماً دو رستے اختیار کیے جاتے ہیں ان میں پہلا ذریعہ صرف اور صرف توجہ الی اللہ ہے اور یقین کامل رکھنا کہ اللہ تعالیٰ ہر قوت پر غالب ہے ، ہر سرکش پر ہاوی ہے ، یہ اسی کی شا ن ہے کہ اس کی ملکیت و بادشاہت پر کوئی غالب نہیں آسکتا ، اس کائنا ت میں کچھ بھی ایسا نہیں کہ اس کے امر اور حکمت کے بغیر حرکت کرسکے ،جب اس درجہ کا ایمان و یقین انسان کو حاصل ہوتا ہے تو ان پریشانیوں کی تکالیف اور ان کے اثر و رسوخ سے خود کو آزاد کر سکتاہے ، عالم یکسوئی اور عالم شجاعت کی منازل کو طے کرسکتاہے ۔ چنانچہ وہ بے خوف ہوکر محنت کرتا ہے۔ مشقت اٹھاتا ہے۔حالات بدلنے کی کوشش کرتا ہے۔کیونکہ وہ اپنی زندگی کو ایک ایسی ذات سے منسلک کر لیتاہے جو ہر چیز پر غالب اور سخت گیر ہے۔ اور دوسرا رستہ جو اختیار کیا جاتا ہےوہ سراسر شریعت کے خلاف بھی ہے اور بلکہ مزید پریشانی کا باعث بھی ہے آپ آئے دن اخباروں میں پڑہتے رہتے ہیں کہ فلاں شخص نے نوکری نہ ملنے کی وجہ سے خود کشی کرلی،فلاں دوشیزہ نے محبت کی ناکامی میں اپنی جان دے دی،فلاں آدمی بیماری سے تنگ آکر پنکھے سےلٹک گیاالغرض بے شمار قسم کے واقعات دیکھنے میں آتے ہیں اور بہت سے مسلمان کلمہ پڑھنے والےبسا اوقات تھوڑی سی پریشانی کی وجہ سے موت کو گلے لگا لیتے ہیں اور ہمیشہ کے لیے جہنم چلے جاتے ہیں یا پھرنشہ آور اشیاء کے استعمال اور حرام کاریوں کے ذریعہ اس غم اور اضطراب کو ختم کرنے یا کم کرنے کی سعی لاحاصل کی جاتی ہے ۔ میرے بھائیو اور قابل احترام بہنو!یہ دنیا مصیبتوں ،پریشانیوں اور غموں کا گھر ہے،بعض لوگ اولاد کی نافرمانی کی وجہ سے پریشان بعض خواتین اپنے خاوند کی بے راہ روی کے متعلق غمگین رہتی ہیں، کچھ لوگ مال، اسباب کے ختم ہوجانے پر غم میں ڈوبے رہتے ہیں، بعض لوگوں کو اولاد نہ ہونے کا غم ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا: [لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِيْ كَبَدٍ][ البلد:4]’’ یقیناً ہم نے انسان کو (بڑی)