کتاب: سہ ماہی مجلہ البیان شمارہ نمبر 18 - صفحہ 77
’’یعنی پالان کی پچھلی لکڑی کے برابر آگے کوئی شے ہو اور پھر کوئی تیرے آگے سے گزر جائے تو کوئی حرج نہیں‘‘۔ اس حدیث پر عون المعبود میں لکھا ہے: ’ثم المراد من مر بین یدیک بین السترۃ و القبلۃ لا بینک و بین القبلۃ‘ ’’یعنی آگے سے مراد سترہ اور قبلہ کے درمیان ہے نہ نمازی اور سترہ کے درمیان‘‘۔ اس سے معلوم ہوا کہ سبل السلام والے کا یہ کہنا کہ پیشانی رکھنے کی جگہ اور پائوں کی جگہ کا درمیان مراد ہونے پر دلالت کرتی ہے یہ ٹھیک نہیں۔ کیونکہ عون المعبود کی تشریح چاہتی ہے کہ محل سترہ سے بُعد میں آگے ہو پھر ضعیف حدیث پر عمل کرنے میں احتیاط ہے۔ خاص طور پر جب کوئی دوسری روایت نہیں۔ نہ صحیح اور نہ ضعیف تو پھر دلیری بالکل اچھی نہیں۔[1] خانہ کعبہ (مسجد الحرام) میں نمازی کے آگے سے گزرنا؟ یہ جائز ہے یا ناجائز؟اس کی بابت بعض علماء نے جواز کا موقف اختیار کیا ہے۔ چنانچہ ’’فتاوی اہل حدیث‘‘ (از محدث روپڑی) میں ہے: بیت اللہ شریف میں نمازی کے آگے سے گزرنا درست ہے۔ منتقی میں حدیث ہے، مطلب بن ابی وداعہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (بیت اللہ میں) باب بنی سلم کی جانب یعنی حجر اسود کے سامنے نماز پڑھتے تھے اور لوگ آگے سے گزرتے تھے۔ آپ کے اور بیت اللہ کے درمیان کوئی سترہ نہ تھا۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بیت اللہ شریف میں سترے کا حکم نہیں ہے اور وجہ اس کی ظاہر ہے کہ وہاں ہر وقت طواف ہوتا ہے اور ہر وقت نماز ہوتی ہے اور ہجوم رہتا ہے، اس لیے سترے کا انتظام مشکل ہے۔ اس حدیث میں اگرچہ کچھ ضعف ہے لیکن سب مذاھب کا تعامل اس کا مؤید ہے اور اس کے ساتھ مجبوری کو بھی شامل کر لیا جائے (کہ ہجوم کی وجہ سے سترے کا وہاں انتظام مشکل ہے) تو اس سے اور تقویت [1] عبداللہ امرتسری مقیم روپڑ ضلع انبالہ، مورخہ 19ربیع الثانی 1353ھ، 12؍ اگست 1933ء، فتاویٰ اہل حدیث: 2/116، طبع اول