کتاب: سہ ماہی مجلہ البیان شمارہ نمبر 18 - صفحہ 73
یہی رائے عصر حاضر کے محقق، مفتی اور عالم مولانا امین اللہ پشاوری کی بھی ہے۔ ان کی تحقیق کا خلاصہ بھی یہی ہے کہ جب گزرنے والے کی بابت روکنے کا حکم ہے تو سترے کی حد تین ہاتھ کے برابر ہی ہو گی اور یہ بھی حکم ہے کہ سترہ زیادہ فاصلے پر نہیں ہونا چاہیے بلکہ قریب ہونا چاہیے۔ تین ہاتھ کی مقدار ہی ایسی ہے کہ نمازی اپنے آگے سے گزرنے والے کو (سترہ نہ ہونے کی صورت میں) روک سکتا ہے۔ اس سے زیادہ فاصلے سے گزرنے والے کو روکنا ممکن نہیں ہے۔ لہٰذا تین ہاتھ سے زیادہ فاصلے سے گزرنا جائز ہو گا۔ اس سے زیادہ فاصلے سے گزرنے والے کو روکنا نہ ممکن ہے اور نہ حکم ہی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ ایسا حکم نہیں دے سکتا جو انسان کی حد طاقت سے باہر ہو اور جب یہ حکم نہیں دیا گیا تو اس کا صاف مطلب یہی ہو گا کہ تین ہاتھ کی مقدار سے آگے گزرنا جائز ہے اور ایسا شخص اس وعید کا مستحق نہیں ہو گا جو نمازی کے آگے سے گزرنے والے کی بابت وارد ہے۔ [1] 3… سعودی عرب کے کبار علماء کی رائے بھی یہی ہے جو اوپر مذکور ہوئی۔ چنانچہ مفتی اعظم اور مجتہد و محقق شیخ ابن باز کی رائے فتح الباری کے حاشیے میں ملاحظہ کی جا سکتی ہے۔ وہ فرماتے ہیں: ’ومتی بعد المار عما بین یدی المصلي إذا لم یلق بین یدیہ سترۃ سلم من الإثم، لإنہ إذا بعد عنہ عرفا لا یسمی مارا بین یدیہ کالذي یمر من وراء السترۃ‘ [[2] ’’جب نمازی کے آگے سترہ نہ ہو تو دور سے گزرنے والا گناہ گار نہیں ہو گا، اس لیے کہ دور سے گزرنے والے کو عرف میں نمازی کے آگے سے گزرنے والا نہیں کہا جاتا، دور سے اس کا گزرنا ایسے ہی ہے جیسے وہ سترے کے باہر سے گزر رہا ہے۔‘‘ اور دور سے مراد تین ہاتھ کی مقدار سے زیادہ فاصلے سے گزرنا ہے، جیسا کہ اوپر وضاحت گزری۔ [1] تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو فتاوی الدین الخالص: 3/563-570 [2] فتح الباري: 1/753، طبع دار السلام