کتاب: سہ ماہی مجلہ البیان شمارہ نمبر 18 - صفحہ 53
اور باہمی گپ شپ میں مذاق نہیں اُڑایا جاتا!؟۔ اور یہ مذاق اڑانے والے کوئی غیر نہیں بلکہ خود مسلمان ہیں۔خود کو مسلمان کہنے والے داڑھی، عمامہ،ٹخنوں سے اونچی شلواررکھنے اور مذہبی حُلیے سے نفرت کرتےہیں،اور اسےکراہت کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ اور کئی مقامات اور دفاتر میں تو یہاں تک مشاہدہ کیا گیاہے کہ وہاں السلام علیکم کہنابھی لوگوںکوانتہائی ناگوار گزتاہے، آذان سن کر تکلیف ہوتی ہے۔ قرآن وحدیث کی باتیں انہیں پرانی باتیں لگتی ہیں۔یقیناً یہ انتہائی قبیح اور برا فعل ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: {وَيْلٌ لِكُلِّ أَفَّاكٍ أَثِيمٍ (7) يَسْمَعُ آيَاتِ اللَّهِ تُتْلَى عَلَيْهِ ثُمَّ يُصِرُّ مُسْتَكْبِرًا كَأَنْ لَمْ يَسْمَعْهَا فَبَشِّرْهُ بِعَذَابٍ أَلِيمٍ وَإِذَا عَلِمَ مِنْ آيَاتِنَا شَيْئًا اتَّخَذَهَا هُزُوًا أُولَئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُهِينٌ } [الجاثية: 7 - 9] ترجمہ :’’ ویل ' اور افسوس ہے ہر ایک جھوٹے گنہگار پر۔جو آیتیں اللہ کی اپنے سامنے پڑھی جاتی ہوئی سنے پھر بھی غرور کرتا ہوا اس طرح اڑا رہے کہ گویا سنی ہی نہیں تو ایسے لوگوں کو دردناک عذاب کی خبر (پہنچا) دیجئے۔وہ جب ہماری آیتوں میں سے کسی آیت کی خبر پا لیتا ہے تو اس کی ہنسی اڑاتا ہے یہی لوگ ہیں جن کے لئے رسوائی کی مار ہے‘‘۔ لطیفوں میں دینی شعائر کا استعمال : موجودہ دور میں استہزا ء ومذاق کی صورتوں میں یہ صورت بھی بہت عام دیکھی گئی ہے کہ لوگ بے دریغ جنت وجہنم اور فرشتوں کے حوالے سے لطیفےبناتے ، سناتے اور لوگوں میں انہیں شیئر کرتے ہیں یہ بھی دین سے استہزاء ہے ۔ جس میں سے ایک لطیفہ بطور مثال یہ مقولہ سامنے رکھتے ہوئے کہ ’’نقلِکفر کفر نہ باشد‘‘ یہاں ذکر کر رہے ہیں ۔ کسی احمق نے یہ عام کیا کہ جہنم میں باقی سب قوموں کے اوپر داروغہ مسلط تھے ان میں سے اگر کوئی نکلنے کی کوشش کرتا تو وہ داروغہ انہیں اندر دھکیل دیتا ۔ جبکہ جہاں پاکستانی قوم تھی وہاں کوئی داروغہ نہیں تھا کسی نے پوچھا تو جواب دیا گیاکہ پاکستانی دراصل ٹانگ کھینچنے کے ماہر ہیں اس لئے ان میں سے اگر کوئی اوپر نکلنے کی کوشش کرتاہے تو اس کے دوسرے ساتھی اس کی ٹانگ کھینچ کر اسے دوبارہ جہنم