کتاب: سہ ماہی مجلہ البیان شمارہ نمبر 18 - صفحہ 48
دینا بلکہ غریب ناچار اور مسکینوں کی ہر ممکن مدد و نصرت اور ان کی مالی معاونت کرنا اور یوں مسلم معاشرے کو ایک باعزت، خودکفیل اور ایک غیر دست نگر معاشرہ بنانے میں مؤثر سے مؤثر تر کردار ادا کرنا... یہ بھی عبادت کی ایک نہایت اعلیٰ وبرگزیدہ صورت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ’ان احب الناسِ إلى اللهِ أَنْفَعُھُمْ لِلنَّاسِ،يَكْشِفُ عَنْهُ كُرْبَةً،أَوْ يَقْضِي عَنْهُ دَيْنًا،أَوْ يَطْرُدُ عَنْهُ جُوعًا[ [1] ترجمہ :’’ بلاشبہ اللہ تعالیٰ کوسب سے محبوب بندہ وہ ہے جو لوگوں کے لئے نفع بخش ہے جو ان کی مشکلات کو دور کرتا ہے یا ان کی طرف سے قرض ادا کرتا ہے یا ان کی بھوک مٹاتا ہے‘‘ ۔ تو معلوم ہو کہ ان تمام صفات کاوہی حامل ہوسکتا ہے جو اللہ تعالیٰ کا ہر حال میں فرمانبردار رہے اور اللہ کی نعمتوں کو استعمال کرنا ہی ان نعمتوںکی شکرگزاری ہے اور انہیں دوسروں تک پہنچانا بھی عبادت بن سکتا ہے جیساکہ فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے :’انما الاعمال بالنیات‘[2]ترجمہ : اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے َ۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں حقیقی معنوں میں زہد و تقویٰ نصیب فرمائے آمین وما توفیقی الا باللہ تعالیٰ [1] رواه الطبراني،وحسنه الألباني، [2] صحیح بخاری:کیف کان بدء الوحی