کتاب: سہ ماہی مجلہ البیان شمارہ نمبر 18 - صفحہ 42
اس واقعہ میں بھی ہمارے لئے نصیحت اخذ کرنے کا پہلو یہ ہے، آج ہم کس طرح دوسروں کے گھر مکان کے درودیوار سے سایہ یاکسی اورشئے کابغیر اجازت فائدہ اٹھاتا توالگ رہا نقصان پہنچانے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ایک اور چیز کی طرف غور کیجئے ہمارے معاشرے میں اشتہار بازی ،جو سال کے بارہ مہینوں کی جاتی ہے ۔کوئی بھی موقع ہوکوئی بھی تقریب یا تشہیر ہوآپ کی دیوار پر بغیر آپ کی اجازت کے پوسٹر چپکادیئے جائیں گے اوراگرآپ نے اعتراض کیا کہ اس سے دیوار خراب ہوتی ہے توبجائے اس کے کہ خودشرمندہ ہوں الٹاآپ اس کو شرمندہ کریں گے ۔ آج ہماراحال یہ ہے کہ ہم کسی کھیت سے گزرتے ،باغ سے گزرکے کچھ نہ کچھ لے آتےہیں مالک کی اجازت اوررضاکے بغیر،کہیں ہمارے دل میں یہ اللہ کا خوف بھی نہیں آتاکہ کل قیامت کے دن ہم سے اس کے بارے میں سوال ہوگا۔ آج آفس میں کام کرنے والوں کا بھی یہ حال ہے خصوصاََسرکاری آفسوں میں کہ دھڑلے سے آفس میں گھر کاکام کرتے ہیں،کبھی یہ خیال نہیں گزرتایہ وقت ہم نے سرکار کے ہاتھوں بیچ رکھاہے اور اس میں ذاتی کام نہ کریں بلکہ وہی کام کریں جس کے لئے ہمیں یہاں ملازم رکھاگیاہے۔ 6امام سبکی رحمہ اللہ نے ہی نقل کیاہے کہ ایک مرتبہ وہ گھر کی دہلیز پر بیٹھے ہوئے تھے کہ اسی دوران ایک کتاسامنے سے آیا،انہوں نے اس کتے کو دھتکارتے ہوئے کلب بن کلب کا لفظ استعمال کیا۔یہ سن کرمیرے والد نے گھر کے اندر سے مجھے ڈانٹا میں نے والد صاحب سے عرض کیاکہ کیاوہ کلب بن کلب یعنی کتاکابچہ کتانہیں ہے فرمایا لیکن یہ توصحیح ہے کہ وہ کتاکا بچہ کتاہے لیکن تمہارے لہجے میں جوحقارت تھی وہ صحیح نہیں ہے۔ جانوروں کی بات چھوڑدیجئے ،انسانوں کی بات کیجئے،اپنے ماتحتوں ،زیردستوں اورمعاشی طورپر کمزورلوگوں سے ہمارابولنے کا انداز کیساہوتاہے کبھی ہم نےغورکیاہے؟۔اگرکسی ملازم سے کوئی غلطی ہوجائے توہم اس کی سات پشتوں تک کو دھنک ڈالتے ہیں۔ یادرکھئے جوکچھ ہم بول رہے ہیں وہ سب محفوظ